تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 278
تاریخ احمدیت۔جلد 23 278 خلافت ثالثہ کا پہلا دن اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا تاریخی خطاب سال 1965ء نومبر کی شب نماز عشاء کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے انتخاب خلافت ثالثہ کی کارروائی عمل میں آچکی تھی اور یوں ۹ نومبر ۱۹۶۵ء خلافت ثالثہ کے عہد مبارک کا پہلا دن تھا اس روز حضرت خلیفة المسیح الثالث نے مسجد مبارک میں نماز فجر پڑھانے کے بعد حسب ذیل تاریخی خطاب فرمایا: ”میرے پیارے بھائیو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ساری جماعت جانتی ہے کہ حضرت خلیفۃ اسیح الثانی نے ۱۹۵۷ء میں بعض حالات کے پیش نظر خلافت کے متعلق ایک مجلس انتخاب خلیفہ اور اس کے قواعد منظور فرمائے تھے۔ان قواعد کی روشنی میں کل شام اسی جگہ ہماری اسی مسجد (مبارک) میں وہ دوست جمع ہوئے جو اس مجلس کے رکن ہیں۔اور جن کا فرض تھا کہ وہ ان مقررہ اور منظور شدہ قواعد کے مطابق آئندہ خلیفہ کے متعلق سوچ و بچار اور دعا کے ساتھ فیصلہ کریں۔اور انہوں نے اپنے اس اجلاس میں (جس کی کارروائی کا بہت سا حصہ بوجہ مختلف جذبات کے میرے کانوں میں نہیں پڑسکا) یہ بارگراں خلافت میرے ان کمزور کندھوں پر رکھ دیا ہے اس لئے اب اس فرض کی تعمیل کے لئے جو کل شام سے شروع ہو چکا ہے، میں اپنے احمدی بھائیوں سے تجدید بیعت کراؤں گا۔میں الفاظ بیعت دہرا تا جاؤ نگا میرے پیچھے آپ بھی دہراتے جائیں۔آپ ایک دوسرے کے کندھوں پر ہاتھ رکھ لیں ، ایک دوسرے کو دھکا نہ دیں اور اپنی توجہ کو اپنے رب کی طرف مرکوز رکھیں اور اسی سے مدد چاہیں کہ وہ آپ سب کو اپنا یہ عہد بیعت نبھانے کی توفیق بخشے اور ان منافقوں کی طرح آپ کو نہ بنائے جن کے متعلق قرآن کریم نے یہ کہا ہے کہ وہ پیٹھ دکھا کر میدانِ جنگ سے بھاگ جاتے ہیں حالانکہ انہوں نے اپنے خدا سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ دین کی جنگوں میں خواہ وہ کسی ہی نوعیت کی کیوں نہ ہوں اپنی پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللهَ مِنْ قَبْلُ لَا يُوَتُونَ الْأَدْبَارَ (احزاب : ١٦) اب پہلے بیعت ہوگی۔اس کے بعد میں چند الفاظ میں اپنے بھائیوں سے خطاب کرونگا“