تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 256 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 256

تاریخ احمدیت۔جلد 23 256 سال 1965ء پر حضور کی طرف سے دنیا کی آٹھ مشہور زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم کی تکمیل کا مژدہ جانفزا۔قادیان میں صنعتی اداروں کی ترقی۔اسی سال سوئٹزرلینڈ میں مشن قائم ہوا۔۱۹۴۷ء حضرت امام جماعت احمدیہ کی طرف سے سکھوں کو بھی پاکستان کی حمایت کی اپیل۔باؤنڈری کمیشن کے سامنے پاکستان کے کیس کو مضبوط کرنے کیلئے مسلم لیگ کی درخواست پر جماعت احمدیہ کی اپیل اور گورداسپور کو پاکستان میں شامل کرنے کی بھر پور جد و جہد۔ہالینڈ اور ملائشیا مشنوں کا قیام۔قادیان میں پراونشل ایجوکیشنل ایسوسی ایشن کا نفرنس کا انعقاد۔مشہور ریاضی دان ڈاکٹر ہارڈل ایف آرایس اور جرمن فلاسفر ڈاکٹر آر بروناز کی قادیان آمد۔ہجرت کا ابتلا، قادیان پر سکھوں کا حملہ اور متعد داحمدیوں کی شہادت۔سکھوں کے مظالم سے تنگ آکر مسلمانوں کا قادیان میں اجتماع۔بھارتی پولیس کے ایما پر بعض احمدی احباب کی گرفتاری۔احمدیوں کی بخیریت پاکستان میں آمد - ۳۱۳ در ولیش مقامات مقدسہ کی حفاظت کیلئے مولا نا عبدالرحمن صاحب جٹ کی زیر امارت وہیں مقیم رہے۔عارضی مرکز کا لا ہور میں قیام۔مختلف مقامات پر ذیلی اداروں ( سکول، جامعہ، کالج وغیرہ) کا اجراء۔لا ہور سے الفضل کا اجراء۔آزادکشمیر حکومت کی بنیا درکھی گئی۔پہلے صدر غلام نبی گلکار صاحب انور بنے۔جواحمدی تھے۔مشرقی پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ سے اس علاقہ میں مسلمانوں کی حفاظت کے سلسلہ میں جماعت احمدیہ کے وفد کی ملاقات۔شاہ انگلستان، ،شہزادی الزبتھ ، ولی عہد مراکش اور دیگر اہم شخصیات کو تبلیغ اسلام۔اس سال متعدد بزرگان سلسله مثلاً حضرت میر محمد اسمعیل صاحب، حضرت صوفی غلام محمد صاحب آف ماریشس اور حضرت مولانا شیر علی صاحب نے وفات پائی۔لاء کالج لاہور میں حضرت خلیفہ اسیح نے پاکستان کے استحکام کے متعلق تقاریر کا سلسلہ شروع فرمایا۔