تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 211 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 211

تاریخ احمدیت۔جلد 23 211 سال 1965ء حلقہ بگوش بنایا۔آپ کی اس انمول اسلامی خدمت کا اعتراف دوسرے مسلمانوں نے بھی کیا۔مسلمانوں کی اقتصادی حالت کو درست اور مضبوط کرنے کے لئے بھی آپ نے نہ صرف نیک تحریکیں کیں بلکہ عملی طور پر تدابیر اختیار کرنے میں ان کی مدد کی۔مسلمانوں کو آپ نے توجہ دلائی کہ چونکہ ان کی اقتصادی حالت کمزور ہے اس لئے دوسری قومیں ان کی عزت نہیں کرتیں انہیں چاہیئے کہ وہ تجارت کی طرف زیادہ توجہ کریں اور ہر شہر اور ہر قصبہ میں اپنی دکانیں کھولیں اور جس طرح ہندو لوگ صرف اپنے لوگوں سے سودا خریدتے ہیں مسلمانوں کو بھی یہ طریق اختیار کرنا چاہیئے کہ ان کی تجارت کامیاب ہو اور ان کی مالی حالت مضبوط ہو۔ہندوستان کے طول و عرض میں مبلغین بھیج کر جگہ جگہ مسلمانوں کی قومی غیرت وحمیت کے جذبات کو ابھارا اور ان میں زندگی کی رو چلائی۔اس تحریک سے مسلمانوں نے اپنی دکانیں کھولیں اور ہند وسرمایہ داروں اور بیوپاریوں کا مقابلہ کیا۔امام جماعت احمدیہ کا ایک زریں کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلسوں کی بنیاد ڈالی۔۱۹۲۷ء کے قریب بعض ہندوؤں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نہایت دلآ زار کتب لکھیں۔جس میں اس مجسم پاک زندگی پر ناپاک حملے کئے گئے تھے آپ نے اس کے تدارک کے لئے سیرۃ النبی ﷺ کے جلسوں کو قائم کیا۔تا کہ اسی ذریعہ سے تمام لوگوں کو معلوم ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کتنی پاکیزہ اور اعلیٰ تھی اور انبیاء علیہم السلام کی پاکیزہ جماعت کے سرخیل تھے۔۱۹۲۴ء میں آپ انگلستان تشریف لے گئے۔تاکہ ان ممالک میں تبلیغی جد و جہد کا بنفس نفیس مشاہدہ کریں۔انہیں ایام میں آپ نے انگلستان میں ایک شاندار مسجد کا سنگِ بنیا درکھا۔جو اس وقت مبلغین اسلام کا مرکز ہے اور اس میں دن رات اعلاء کلمۃ اللہ کا مقدس کام ہو رہا ہے۔۱۹۳۱ء میں کشمیر کے متعلق یہ تحریک پیدا ہوئی کہ وہاں کے مسلمان جو تعداد کے لحاظ سے بڑی بھاری اکثریت رکھتے ہیں لیکن حکومت میں ان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے ان کے حقوق کی حفاظت کی جائے۔اور ریاست کے مظالم سے انہیں نجات دلائی جائے اس کام کیلئے شملہ میں ایک کانفرنس ہوئی۔جس میں مسلمانوں کے بڑے بڑے لیڈر شامل ہوئے اور ایک آل انڈیا کشمیر کمیٹی قائم کر کے حضرت امام جماعت احمدیہ کو متفقہ طور پر اس کا صدر منتخب کیا گیا۔آپ نے اہل کشمیر کے لئے اس تندہی اور خوش اسلوبی سے کام کیا کہ خدا کے فضل سے کشمیری مسلمانوں کے اکثر مطالبات تسلیم کر لئے گئے۔