تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 199 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 199

تاریخ احمدیت۔جلد 23 199 سال 1965ء عظیم الشان سپر آج پیوند زمین ہے جس نے مخالفین اسلام کی ہر تلوار کا وار اپنے سینے پر برداشت کیا مگر یہ گوارا نہ کیا کہ اسلام کو گزند پہنچے۔حضرت مرزا بشیر الدین محموداحمد کی وفات سے جماعت احمد یہ یقیناً بہت غمگین ہے کیونکہ اس کا وہ امام اور سر براہ رخصت ہو گیا جس نے اس جماعت کو بنیان مرصوص بنا دیا۔لیکن اس جماعت سے باہر بھی ہزاروں ایسے افراد موجود ہیں جو اختلاف عقائد کے باوجود آپ کی وفات کو دنیائے اسلام کا ایک عظیم سانحہ سمجھ کر بے اختیار اشکبار ہیں۔آپ نے دنیا کے بیشمار ممالک میں چارسو کے قریب مساجد تعمیر کرائیں۔تبلیغ اسلام کیلئے تقریباً یکصد مشن قائم کئے جو عیسائیت کی بڑھتی ہوئی رو کے سامنے ایک آہنی دیوار بن گئے۔مختصر یہ کہ حضرت صاحب نے اپنی زندگی کا ایک ایک سانس اپنے مولیٰ کی رضا اور اسلام کی سر بلندی کیلئے وقف کر رکھا تھا۔خدا ان سے راضی ہوا وہ خدا سے راضی ہوئے۔اگر میں ایک شیعہ ہوتے ہوئے انہیں رضی اللہ تعالیٰ عنہ لکھتا ہوں تو یہ ایک حقیقت کا اظہار ہے محض اخلاقی رسم نہیں۔حکیم یوسف حسن ایڈ میٹر نیرنگ خیال کا بیان 127 مکرم نازش رضوی کے ساتھ مکرم حکیم یوسف حسن صاحب ایڈیٹر نیرنگ خیال لاہور بھی شرف ملاقات سے مشرف ہوئے تھے۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے وہ تحریر فرماتے ہیں کہ : اس کے بعد ہم رخصت ہوئے۔نازش رضوی اور میں میرزا صاحب کے حافظہ اور اخلاق کی تعریف میں رطب اللسان تھے۔مرزا صاحب یقینا بڑے علم دوست علم نواز اور صلح کل کی طبیعت کے مالک تھے۔ہر شخص کی قابلیت اور خدمت کے مطابق اس کی حوصلہ افزائی کرتے اور سر پرستی فرماتے تھے۔‘ 128 نامورادیب،صحافی اور مشہور محقق مولا نا غلام رسول مہر کا بیان جناب شیخ عبدالماجد صاحب لاہور سے تحریر فرماتے ہیں کہ : مجلس خدام الاحمدیہ لاہور کے مصور مجلہ فاروق سووینئر “۱۹۶۵ء،۱۹۶۶ء،۱۹۶۷ء کی ترتیب و تدوین میرے سپر در ہی ہے۔اس سلسلہ میں مجھے گذشتہ جماعتی سرگرمیوں کے نقوش کی تلاش تھی۔میں اخویم برادرم محمود احمد صاحب ( ابن مکرم و محترم عبد الجلیل صاحب عشرت) کے ہمراہ ۱۲۰ اور ۲۵ دسمبر ۱۹۶۶ء مولانا غلام رسول مہر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔پتہ چلا تھا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی