تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 198
تاریخ احمدیت۔جلد 23 198 سال 1965ء اٹھنے کی کوشش کی۔میں نے عرض کیا کہ آپ یہ تکلیف نہ فرمائیں اور آرام فرمار ہیں۔اس پر آپ لیٹے رہے۔ہم قریب ہی ایک صوفے پر بیٹھ گئے۔مزاج پرسی کے بعد آپ نے حکیم یوسف حسن صاحب سے فرمایا:۔آپ کا رسالہ نیرنگ خیال مدت سے ہمارے مطالعہ میں ہے آپ اسے زندہ رکھنے اور ترقی دینے کے لئے بڑے عزم و استقلال سے کام لے رہے ہیں جو قابلِ تعریف ہے“۔حکیم صاحب نے حضور کا بہت بہت شکریہ ادا کیا کہ آپ نیرنگ خیال میں بڑی دلچسپی لیتے ہیں۔پھر حضور نے حکیم صاحب سے فرمایا:۔آپ نے ایک دفعہ قادیان آکر ہماری بچی کا علاج کیا تھا اس وقت بڑے بڑے ڈاکٹر اور حکیم مرض کی تشخیص نہیں کر سکے تھے۔ہم نے آپ کو لاہور سے بلوایا تو آپ کے علاج سے بچی تندرست ہو گئی۔یہ سب خداوند تعالیٰ کا فضل تھا۔اب یہ اتنے لمبے عرصہ کا واقعہ تھا کہ اسے خود حکیم یوسف حسن صاحب بھی بھول چکے تھے۔حضرت صاحب کے ارشاد پر حکیم صاحب نے حافظے پر زور دیا تو انہیں یہ واقعہ بمشکل یاد آیا۔حکیم صاحب اور میں حضرت صاحب کی غیر معمولی قوت حافظہ پر سخت حیران ہوئے بالخصوص اس لئے کہ اب حضرت صاحب بیمار بھی تھے۔پھر حضرت صاحب میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور حکیم صاحب سے فرمایا:۔نازش صاحب احمدی شیعہ ہیں۔یہ ہمارے پرانے مخلص دوستوں میں سے ہیں۔انہوں نے اپنا قلم ہمارے حق میں استعمال کیا ہے اس لئے کہ ہمارے مخالف ہم سے مخالفت محض برائے مخالفت کرتے رہے ہیں اور ہم ہمیشہ حق پر ہوتے رہے ہیں۔نازش صاحب نے حق کی حمایت میں کوتاہی نہیں کی۔حضرت صاحب اب مجھ سے مخاطب ہوئے فرمایا:۔”آپ کے کتنے بچے ہیں؟ وہ کیا کیا کرتے ہیں؟ اگر وہ زیر تعلیم ہیں تو ان سب کور بودہ بھیج دیں ہمارے یہاں ان کی رہائش اور خوراک کا سب انتظام ہو جائے گا۔وہ شیعہ رہتے ہوئے یہاں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں گے“۔میں حضور کی اس انتہائی مخلصانہ پیشکش سے بے حد متاثر ہوا اور صمیم قلب شکریہ بجالایا۔افسوس کہ وہ وجود جو انسانیت کے لئے سراپا احسان و مروت تھا آج اس دنیا میں نہیں۔وہ