تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 197 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 197

تاریخ احمدیت۔جلد 23 197 سال 1965ء فرماتے ہی حضرت صاحب نے پہلو بدلا اور بالخصوص توجہ مبذول فرمائی۔غزل کا مطلع یہ تھا اُسے کام کیا ہے سلوک سے کہ جو فیضیاب شہور ہے جو نگاہ جلوہ شناس ہو تو نفس دلیل صعود ہے تبتسم صاحب نے یہ مطلع پڑھا تو حضرت صاحب بہت محظوظ ہوئے اور مکرر پڑھنے کو فرمایا۔پھر ہم نے حضرت صاحب سے درخواست کی کہ وہ اپنے کلام سے ہمیں مستفیض فرما ئیں اس پر حضور نے فرمایا:۔آپ حضرات شاعری کی نیت سے شعر کہتے ہیں اس لئے آپ شاعر ہیں۔ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ تبلیغ کی خاطر ہوتا ہے ہم اُسے شاعری نہیں سمجھتے۔سالک صاحب یہاں بھی مزاح سے نہ چھو کے فوراً بول اٹھے :۔میں اور نازش غیر احمدی ہیں آپ ہمیں تبلیغ فرمائیے۔اس پر حضرت صاحب مسکرائے اور از راہ کرم اپنے چند بلیغ اشعار فرما دیئے جنہیں سن کر ہم سب بہت لطف اندوز ہوئے۔میری درخواست پر حضرت صاحب نے اپنی چھوٹی تقطیع کی ایک کتاب ” کلام محمود اپنے دستخط ثبت فرما کر مجھے مرحمت فرمائی جواب تک میرے پاس محفوظ ہے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد سے میری آخری ملاقات ۱۹۶۰ء میں ہوئی۔اُس وقت محترم حکیم یوسف حسن صاحب ایڈیٹر نیرنگ خیال بھی میرے ہمراہ تھے۔ہم محض حضرت صاحب سے ملاقی ہونے ربوہ گئے تھے۔ربوہ میں داخل ہوتے ہی ہم نے حضرت صاحب کے سیکرٹری کو ٹیلیفون پر اپنی آمد کی اطلاع دی تو چند ہی منٹ میں شیخ روشن دین صاحب تنویر ایڈیٹر ” الفضل“ ہمارے پاس پہنچے گئے۔شیخ صاحب انتہائی مخلص آدمی ہیں۔یہ جمعرات کا دن تھا۔معلوم ہوا کہ حضرت صاحب کی طبیعت ناساز ہے آج ملاقات نہیں ہو سکے گی اور جمعہ کے دن ویسے ہی ملاقاتیں بند ہیں۔ہم نے سیکرٹری صاحب سے عرض کیا کہ ہماری آمد کی اطلاع بہر حال حضرت صاحب تک پہنچا دیں۔انہوں نے ایسا کرنے کا وعدہ کر لیا۔ہم نماز عصر سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ سیکرٹری صاحب نے آکر فر مایا کہ کل یعنی جمعہ کی صبح ہمیں حضرت صاحب نے چائے پر یاد فرمایا ہے۔چنانچہ جمعہ کو صبح آٹھ بجے ہم حضرت صاحب کی خدمت میں پہنچا دیئے گئے۔اس وقت حضرت صاحب علیل الطبع اور بہت کمزور تھے۔آپ ایک بے بستر کی چار پائی پر استراحت فرما تھے۔ہم کمرے میں داخل ہوئے تو آپ نے