تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 196 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 196

تاریخ احمدیت۔جلد 23 196 سال 1965ء انعامی مقابلہ تقاریر اور مشاعرہ کا انعقاد تھا جس میں ہماری شرکت ضروری سمجھی گئی۔ربوہ میں اس روز شام کو پہلے انعامی مقابلہ تقاریر ہوا جس میں ہم تینوں نے حج کے فرائض انجام دیئے اور پھر مولانا عبدالمجید سالک مرحوم و مغفور کی زیر صدارت مشاعرہ ہوا۔یہ دونوں تقریبیں بہت کامیاب رہیں۔دوسرے دن حضرت صاحب نے بعد دو پہر ہم تینوں کو چائے پر یا دفرمایا۔میں حضرت صاحب سے گزشتہ ملاقاتوں میں ان کی بے مثال سیاسی بصیرت اور اسلام سے متعلق انتہائی غیرت کا نہ دل سے قائل ہو چکا تھا۔لیکن اس چائے پر ان کی زندگی کا ایک اور گوشہ میرے سامنے آیا جس سے میں ابھی تک ناواقف تھا۔اس گوشے کا تعلق لطافت طبع اور ذوق ادب سے تھا۔چائے شروع ہوئی تو چند نوجوانوں نے مودی کیمرہ سے حضرت صاحب سمیت ہم سب کی تصاویر لیں۔اور چند منٹ تک یہ نوجوان اس کمرے میں موجود رہے پھر معلوم نہیں۔وہ از خود ہی چلے گئے یا حضرت صاحب نے اشارہ فرما دیا کہ وہ چلے جائیں۔بہر حال اب ہم تینوں ادیب تھے اور حضرت صاحب۔اور کوئی نہ تھا۔باتوں باتوں میں گزشتہ رات کے انعامی مقابلہ تقاریر اور مشاعرے کا ذکر آ گیا۔مولا نا سالک مرحوم نے حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کی غیر معمولی انتظامی قابلیت کو بہت سراہا اور کہا کہ اگر اسی قسم کی متانت اور شائستگی قائم رہے تو ایسے ادبی اجتماع اکثر منعقد ہوتے رہنے چاہئیں ان کی افادیت بہت ہے۔حضرت صاحب نے سالک صاحب مرحوم کی یہ تجویز پسند فرمائی۔پھر ادبیات پر گفتگو شروع ہوگئی مجھے اس بات سے سخت حیرت ہوئی کہ حضرت صاحب کا ادبی ذوق نہایت منجھا ہوا اور انتہائی دقیقہ رس ہے۔ادب کی نازک لطافتوں کا ذکر آیا تو معلوم ہوا کہ حضرت صاحب کو ان پر صرف عبور ہی حاصل نہیں بلکہ یہ خود اُن کی طبیعت کا حصہ ہیں۔کسی نظام کا سربراہ یا کسی قوم کا پیشوا ہونا جدا بات ہے اور انتہائی لطیف ادبی ذوق کا حامل ہونا قطعی طور پر دوسری چیز ہے۔پھر آپ کا اپنا کلام بھی بہت ہی بلند پایہ ہے۔حضرت صاحب نے خواہش فرمائی کہ سالک صاحب اپنا کلام سنائیں۔سالک صاحب نے پہلے تو معذرت چاہی۔پھر امتثال امر کے طور پر انہوں نے اپنے نہایت بیش قیمت اور پاکیزہ اشعار سنائے جو مکمل دو غزلوں پر مشتمل تھے۔سالک صاحب کا کلام حضرت صاحب نے بہ دل پسند فرمایا۔پھر مجھے ارشاد ہوا میں نے بھی دو غزلیں پیش کیں۔حضرت صاحب نے ان پر بھی اپنی خاص پسندیدگی کا اظہار فرماتے ہوئے میری حوصلہ افزائی فرمائی۔بعدہ تبسم صاحب کی باری آئی انہوں نے اپنی ایک دو غزل پیش کی جس کا مصرعہ اولیٰ سماعت