تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 195 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 195

تاریخ احمدیت۔جلد 23 195 سال 1965ء سے صرف حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ہی دے سکتے ہیں۔وہاں وہ عام مسلمانوں پر یہ ظاہر کرنا بھی نہیں چاہتے تھے کہ وہ حضرت صاحب کو اپنار ہر تسلیم کر چکے ہیں۔میں اس سلسلے میں قادیان تین دن مقیم رہا۔اور حضرت صاحب سے کئی تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ان اس سلسلے میں اور سے کئی ملاقاتوں میں دو باتیں مجھ پر واضح ہو گئیں ایک یہ کہ حضرت صاحب کو اسلام اور حضور سرور کائنات علیہ السلام سے جو عشق ہے اس کی مثال اس دور میں ملنا محال ہے۔دوسرے یہ کہ تحفظ اسلام کے لئے جو اہم نکات حضرت صاحب کو سو جھتے ہیں وہ کسی دیگر مسلم لیڈر کے ذہن سے مخفی رہتے ہیں۔میرا یہ مشن بہت کامیاب رہا اور میں نے دہلی جا کر جور پورٹ پیش کی اس سے مسلم زعماء کے حوصلے بلند سے بلند تر ہو گئے۔اس کے بعد حضرت صاحب سے میری ایک ملاقات شملہ میں ہوئی۔اس ملاقات کے دوران میں نے محض اپنی ذاتی حیثیت سے یہ تجویز پیش کی کہ کوئی ایسا فارمولا تلاش کر لیا جائے جس سے شیعہ اور احمدی فرقوں کے درمیان اشتراک عمل کی کوئی راہ پیدا ہو جائے۔پھر رفتہ رفتہ اسلام کے دوسرے چھوٹے فرقوں کو شامل کر لیا جائے۔یہاں تک کہ بالآخر اختلاف عقائد کے باوجود تمام مسلم فرقوں میں تعمیری کاموں کے لئے اتحاد و اتفاق ہو جائے۔میرے نزدیک اس کے دو فائدے تھے ایک یہ کہ اس طرح مسلمانانِ ہند بحیثیت مجموعی دشمنانِ اسلام کا ہر پہلو سے موثر اور نتیجہ خیز مقابلہ کر سکیں گے۔اور دوسرے یہ کہ اسلام کے مختلف فرقے خدا اور رسول ﷺ کا نام درمیان میں لا کر ایک دوسرے پر جو کیچڑ اچھالتے ہیں وہ بند ہو جائے گا۔حضرت صاحب نے اصولی طور پر میری یہ تجویز بہت پسند فرمائی لیکن وہ ان دنوں بہت مصروف تھے اور یہ مسئلہ وقت طلب تھا اس لئے آپ نے مجھے قادیان آنے کی دعوت دی تا کہ وہاں اطمینان سے اس تجویز کے تمام پہلوؤں پر غور و خوض کیا جاسکے۔میں نے یہ دعوت قبول کر لی مگر میری مصروفیتوں نے بعد میں مجھے قادیان جانے کی اجازت نہ دی۔تشکیل پاکستان کے بعد مولانا عبدالرحیم صاحب درد مرحوم کی دعوت پر میں ربوہ میں ایک سالانہ جلسہ میں شریک ہوا اور کئی دوستوں سے ملاقی ہوا۔اس موقع پر بھی حضرت صاحب سے میری ایک مختصر سے ملاقات ہو گئی مگر کوئی خاص گفتگو نہ ہوسکی۔فروری ۱۹۵۶ء کے پہلے ہفتے میں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب موجودہ امام جماعت احمدیہ کے ارشاد پر تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے پروفیسر خان نصیر احمد خان لا ہور تشریف لائے اور مولا نا عبدالمجید سالک مرحوم مغفور، چوہدری عبدالرشید تبسم ایم۔اے اور مجھے موٹر کار میں ربوہ لے گئے کہ وہاں ایک