تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 180
تاریخ احمدیت۔جلد 23 180 سال 1965ء ۱۹۳۱ء میں کشمیر کمیٹی اور جماعت احمدیہ نے کشمیر کی ایجی ٹیشن کے لئے بھاری رقوم خرچ کیں اور درجنوں احمدی وکلاء نے مفت خدمات ریاستی عوام کے لئے پیش کیں۔چنانچہ جہاں بھی کشمیر کا ذکر آتا ہے مرزا صاحب کا ذکر خیر بھی لازمی طور پر آتا ہے۔۱۹۳۱ء کے بعد ڈوگرہ حکومت کی شہ پر شیر کشمیر شیخ محمد عبد اللہ پر بعض رجعت پسند ریاستی حضرات نے الزام لگایا کہ وہ بھی احمدی ہو گئے ہیں اور ان کے ذریعہ احمدی فرقہ ریاست کشمیر کے مسلمانوں کو ہی احمدی بنانا چاہتے ہیں۔اس طرح سے ریاستی مسلمانوں میں پھوٹ کی ابتدا پڑ گئی جو کہ سالہا سال تک جاری رہی لیکن اس الزام تراشی کے باوجود کشمیر کے معاملات میں مرزا صاحب کی دلچسپی اس سے کم نہیں ہوئی۔116 766 روزنامہ نئی روشنی کراچی ۱۲ نومبر ۱۹۶۵ء: ”امام جماعت احمدیہ کا انتقال امام جماعت احمد یہ جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد فضل عمر کا بعمر ۷۷ سال ربوہ کے مقام پر انتقال ہو گیا۔اختلاف عقائد کے باوجود اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ پاکستان کی ایک منظم وفعال جماعت کے سربراہ تھے اور اس جماعت نے مختلف فلاحی کاموں اور ملکی مسائل میں حصہ لینے سے کبھی اور نظر انداز نہیں کیا ہے۔۱۹۳۱ میں جب تحریک آزادی کشمیر کا عملی آغاز ہوا۔برصغیر کی سیاسیات پر بھی اس کا گہرا اثر پڑا تو ڈوگرہ شاہی ظلم و تشدد کے خلاف جو پہلی آل انڈیا کشمیر کمیٹی قائم ہوئی تھی اس کے صدر بھی جناب مرزا بشیر الدین احمد ہی مقرر ہوئے تھے اور بعد میں دوسرے صدر حضرت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال منتخب کئے گئے۔جنلی مقاصد حالیہ کے فنڈ میں بھی مرزا صاحب نے حال ہی میں ایک لاکھ روپیہ کا عطیہ دیا۔اپنی جماعت کی فلاح اور بہبود کے لئے انہوں نے جماعت داؤدی بوہرہ کے داعی سیدنا مولانا طاہر سیف الدین صاحب اور جماعت اسماعیلیہ کے امام ہر رائل ہائنس کریم آغا خاں کی مانند اپنی جماعت کے لئے انہوں نے تعلیمی، تربیتی ، اصلاحی معاشرتی ادارے قائم کئے۔اور ایک جماعتی فنڈ قائم کیا جس میں ہر رکن جماعت بلا چون و چرا مقررہ رقم دیتا ہے جس سے جماعت کے تمام کام چلتے ہیں۔فری ہسپتال اور ڈسپنسریاں بھی قائم کی جاتی ہیں۔عقائد سے قطع نظر اس قسم کے رفاہی تنظیمی کام دوسروں کے لئے قابل تقلید ہیں۔بہر حال مرزا صاحب ایک طبقہ کے امام اور بڑے پاکستانی تھے۔ان کا انتقال ان کی جماعت کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی جماعت و پسماندگان کو صبر عطا فرمائے۔“