تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 171
تاریخ احمدیت۔جلد 23 171 سال 1965ء سوا بارہ بجے ربوہ میں انتقال کر گئے۔وہ گزشتہ تین ہفتوں سے بیمار تھے ان کی عمرے ۷ سال تھی۔انہیں کل صبح ربوہ میں دفن کیا جائے گا۔تمام دنیا میں مرحوم کے ۳۰ لاکھ معتقدین ہیں اور ان کے مبلغوں اور داعیوں کا جال بچھا ہوا ہے۔پاکستان کے کونہ کونہ اور دنیا کے مختلف حصوں سے احمدی اپنے مرحوم رہنما کی تجہیز و تکفین میں شرکت کے لئے بڑی تعداد میں ربوہ پہنچ رہے ہیں۔ان کی تدفین سے پہلے فرقہ کے نئے رہنما کا نام اعلان کیا جائے گا۔اس مقصد کے لئے احمدیوں کی مجلس انتخاب کا اجلاس شروع ہو گیا ہے۔مرزا بشیر الدین محمود نے جو ۱۹۱۴ء میں اپنے فرقہ کے خلیفہ منتخب کئے گئے تھے بڑی پُر مشقت زندگی گزاری۔انہوں نے یورپ، امریکہ اور افریقہ میں خاص طور پر زبر دست تبلیغی مساعی کیں اور اس مقصد کے لئے دوبار مغربی ممالک کا دورہ بھی کیا۔احمد یہ تبلیغی وفود کو افریقہ کے مغربی ساحل پر واقع ممالک میں خاصی کامیابی بھی ہوئی۔مرزا صاحب نے اپنی یادگار کے طور پر خاص مذہبی لٹریچر چھوڑا ہے۔انہوں نے سیاسی تحریکوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔۱۹۲۲ء میں انہوں نے یوپی میں آریہ سماجیوں کی شدھی سنگھٹن تحریک کا مقابلہ کیا اور ۱۹۳۱ء میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی قیادت کی اور ۱۹۴۸ء کی تحریک آزادی کشمیر میں حصہ لینے کے لئے احمد یہ رضا کاروں کی ایک بٹالین کی خدمات حکومت کو پیش کیں۔مرحوم کی نماز جنازہ کل صبح بہشتی مقبرہ گراؤنڈ میں ہوگی اور انہیں ۱۰ بجے کے قریب وہیں دفن کیا جائے گا۔نماز جنازہ ان کے جانشین پڑھائیں گے۔مرزا صاحب جنوری ۱۸۸۹ء میں قادیان میں پیدا ہوئے تھے انہوں نے اپنے پسماندگان میں تیرہ بیٹے اور ۹ بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ڈھا کہ میں آج انجمن احمد یہ ڈھا کہ تیچگاؤں اور نرائن گنج کا ایک اجلاس ہوا جس میں احمدیوں کے مذہبی رہنما مرزا بشیر الدین محمود کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا اور پسماندگان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔“ روزنامه انجام“ کراچی مورخه انومبر ۱۹۶۵ء: احمدیہ فرقہ کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود انتقال کر گئے ۵۱ سال تک احمدی فرقہ کی قیادت کی ،۷۷ سال کی عمر میں وفات ربوہ ۸ نومبر ( پ پ + پ پ 1) کل نصف شب کے بعد ۲ بجکر ۲۰ منٹ پر جماعت احمدیہ کے خلیفہ ثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد ے ے سال کی عمر میں وفات پاگئے وہ ایک عرصہ سے سخت علیل تھے۔احمدی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد پاکستان کے مختلف علاقوں اور بعض دوسرے ممالک سے بھی