تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 170
تاریخ احمدیت۔جلد 23 170 سال 1965ء اور تمام دنیا میں ۲۹۱ مساجد چھوڑی ہیں۔اپنے خلیفہ کو آخری خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے پاکستان اور دنیا کے مختلف حصوں سے ان کے پیرور بوہ میں جمع ہورہے ہیں۔“ روزنامه حریت کراچی ۱۰ نومبر ۱۹۶۵ء: ”مرزا بشیر الدین محمود انتقال کر گئے لاہور ۸ نومبر (اے پی پی+ پی پی اے) جماعت احمدیہ کے راہنما مرزا بشیر الدین محمود احمد کا گذشتہ رات ربوہ میں ۲ بجکر ۲۰ منٹ پر انتقال ہو گیا۔وہ پانچ چھ سال سے علیل تھے اور پچھلے دو تین ہفتے سے ان کی طبیعت زیادہ خراب تھی۔۷۷ سالہ مرزا بشیر الدین محمود جماعت احمدیہ کے بانی مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے بیٹے اور جماعت کے دوسرے خلیفہ تھے وہ مرزا صاحب کے پہلے خلیفہ حکیم نورالدین کی وفات پر ۴ ۱ مارچ ۱۹۱۴ء میں خلیفہ دوم منتخب ہوئے تھے۔احمد یہ جماعت کے اراکین انتقال کی خبر سن کر پاکستان کے گوشے گوشے سے اور بیرونی ملکوں سے ربوہ پہنچ رہے ہیں تا کہ اپنے مرحوم را ہنما کا آخری دیدار کر سکیں۔مرزا صاحب کو کل فرقے کے نئے راہنما کے انتخاب کے بعد سپرد خاک کیا جائے گا۔جماعت کی مجلس شوریٰ کا اجلاس اس کا انتخاب کرے گی۔انہوں نے بیرونی ملکوں میں احمدیہ فرقے کی نشر و اشاعت کے لئے جو مراکز قائم کئے تھے ان کی تعداد ۹۶ اور مشنریوں کی تعداد ایک سو باسٹھ ہے۔ہزاروں عورتیں، بچے اور مرد مرزا صاحب کے آخری دیدار اور ان کی تجہیز وتکفین میں شرکت کے لئے ربوہ پہنچ رہے ہیں۔علالت شدید ہو جانے کی خبر سن کر ہی بہت سے معتقدین ربوہ روانہ ہو گئے تھے۔مرزا صاحب کی نماز جنازہ کل صبح دس بجے بہشتی مقبرہ گراؤنڈ میں ہوگی۔یہیں انہیں سپردخاک کیا جائے گا۔نماز جنازہ احمدیہ جماعت کے نئے قائد پڑھائیں گے جن کا انتخاب آج رات کیا جائے گا۔مرزا صاحب نے تیرہ بیٹے اور نو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔روز نامہ جنگ کراچی، انومبر ۱۹۶۵ء: احمدیہ فرقے کے پیشوا مرزا بشیر الدین محمود انتقال کر گئے آج صبح انہیں ربوہ میں دفن کیا جائے گا۔آج ہی نئے پیشوا کا اعلان کر دیا جائیگا۔لاہور ۸ نومبر ( پ پا۔اپپ) احمدی فرقہ کے مذہبی پیشوا مرزا بشیر الدین محمود احمد کل رات