تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 126 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 126

تاریخ احمدیت۔جلد 23 126 سال 1965ء سہگل مرحوم گھبراہٹ کی حالت میں مشن ہاؤس تشریف لائے اور ہندو پاکستان کی لڑائی کی خبر سنائی۔مورخہ سے ستمبر ۱۹۶۵ء کو جماعت کلکتہ کے ذمہ دار احباب کے مشورہ سے یہ طے پایا کہ خاکسار اور مکرم مولوی بشیر احمد صاحب دہلوی کلکتہ سے قادیان خیریت معلوم کرنے کے لئے فوراً دہلی جائیں۔ڈی سی اور ایس پی گورداسپور کو تاریں بھی دی گئیں۔چنانچہ استمبر ۱۹۶۵ء کو دہلی جانے کے لئے ہوائی جہاز میں سیٹیں بک کروائی گئیں۔مکرم مولوی بشیر احمد صاحب جو ان دنوں کلکتہ میں مبلغ تھے وہ بھی میرے ہمراہ آئے نیز مکرم مظہر احمد صاحب بانی اور مکرم محمد سلیم پسر مکرم محمد عمر صاحب سہگل بھی ساتھ نئی دہلی تشریف لائے کیونکہ مورخہ ۹ ۱۰ستمبر ۱۹۶۵ء کی رات کو کلکتہ میں میاں محمد عمر صاحب سہگل اور مکرم فضل کریم صاحب مرحوم اور مکرم مولوی عبدالمجید صاحب ووہرا کو وہاں کی حکومت نے ڈی۔آئی۔آر کے ماتحت کئی اور افراد کے ساتھ نظر بند کر لیا تھا۔مکرم سیٹھ محمد صدیق صاحب بانی بھی خطرہ کا اندازہ لگاتے ہوئے اپنے بیٹے عزیز منیر احمد صاحب بانی کے ساتھ خاموشی سے مدراس نقل مکانی کر گئے۔دہلی پہنچ کر ہم نے قادیان خیریت معلوم کرنے کی تاریں بھجوائیں اور اپنے حلقہ کے ممبر پارلیمنٹ شری۔ڈی سی۔شر ما ، مرکزی وزیر جنرل شاہنواز خان صاحب محترم میر مشتاق احمد صاحب چیئرمین میٹرو پول کونسل اور شری ایم ایل مسراڈ پٹی ہوم منسٹر سے ملے۔ڈپٹی ہوم منسٹر صاحب نے پنجاب کے ہوم منسٹر سر دار در باراسنگھ سے فون پر بات کر کے جماعت قادیان کے متعلق خصوصی حفاظتی اقدام کی بات کی چونکہ قادیان ہندوستان کی تمام جماعتوں سے کٹ چکا تھا۔اس لئے خاکسار اور مولوی بشیر احمد صاحب نے دہلی سے ہی تمام جماعتوں کو سر کولر لیٹ بھیجوائے۔مورخہ ۶ استمبر ۱۹۶۵ء کو ہمیں یہ اطلاع ملی کہ وہاں سے بعض فیملیز کوحکومت پنجاب قید کر کے لدھیانہ جیل میں لے گئی ہے۔یہ فیملیز قادیان میں مقیم ہندوستانی شہریوں کی تھیں۔جو پاکستانی پاسپورٹوں پر قادیان مستقل رہائش کے لئے آئی ہوئی تھیں اور جن کی شہریت کی منظوری کے کاغذات زیر کارروائی تھے۔اندریں بارہ مرکزی حکومت کے انڈر سیکرٹری اور جوائنٹ سیکرٹری سے ملاقاتیں کی گئیں اور انہوں نے جلد حکومت پنجاب سے رپورٹ حاصل کر کے کارروائی کرنے کا وعدہ کیا۔مورخہ ۱۸ ستمبر ۱۹۶۵ء کو خاکسار اور مکرم مولوی بشیر احمد صاحب لال بہادر شاستری پرائم منسٹر ہند کی کوٹھی پر گئے۔