تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 125
تاریخ احمدیت۔جلد 23 125 سال 1965ء کل یہاں پر اس امر پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی غرض سے کہ اس نے پاکستان کے عوام اور مسلح افواج کو دشمن کے جارحانہ حملہ کو ناکام بنانے اور ہر محاذ پر اسے شکست دینے کا عزم وحوصلہ اور ہمت و طاقت عطا فرمائی اہل ربوہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجالائے اور انہوں نے پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لئے اور وطن عزیز کی خاطر آئندہ پہلے سے بھی بڑھ کر قربانیاں بجالانے کی توفیق ملنے کے لئے خصوصی دعائیں کیں۔کل یہاں مسجد مبارک میں نماز جمعہ محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس نے پڑھائی۔خطبہ جمعہ میں آپ نے قرآن مجید کی روشنی میں اس امر پر روشنی ڈالی کہ جہاں اسلام نے حملہ آور دشمن کا پوری قوت کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی تعلیم دی ہے وہاں یہ بھی حکم دیا ہے کہ اگر دشمن صلح کا طالب ہو تو پھر جنگ بند کر دینی چاہیئے اور آئندہ کے لئے اللہ تعالیٰ پر توکل رکھتے ہوئے اس کی مدد و نصرت کا طالب ہونا چاہیئے۔پاکستان نے ہر محاذ پر کامیاب اور فتحیاب ہونے کے باوجود اقوام متحدہ کی مداخلت پر فائر بندی کا حکم دے کر اسلامی تعلیم پر عمل کیا ہے۔اور دنیا پر ثابت کر دکھایا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا بلکہ امن کا علمبر دار ہے۔جنگ اس نے نہیں چھیڑی بلکہ اس پر ٹھونسی گئی تھی۔اللہ تعالیٰ نے اہل پاکستان کو اپنا دفاع کرنے میں اپنی مدد و نصرت سے نوازا۔اور کئی گنا طاقتور دشمن کو شکست دینے کی غیر معمولی توفیق عطا فرمائی۔اس غیر معمولی کامیابی پر ہم پر اللہ تعالیٰ کا شکر واجب ہے۔آپ نے آئندہ بھی مددو نصرت حاصل ہونے کے لئے دعا کی پر زور تحریک کی۔چنانچہ نماز جمعہ کے سجدوں میں درد و سوز کے ساتھ دعائیں کی گئیں۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ کی اقتدا میں تمام حاضرین نے ایک علیحدہ سجدہ شکرانہ بھی ادا کیا۔“ پاک و ہند کی جنگ اور حالات قادیان ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران قادیان ( بھارت) کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے مکرم عبدالحمید عاجز صاحب تحریر فرماتے ہیں: مورخه ۲ ستمبر ۱۹۶۵ء کو بذریعہ ہوڑہ میل مکرم مولوی جلال الدین صاحب انسپکٹر بیت المال کے ہمراہ چندہ جات کے سلسلہ میں کلکتہ کے لئے روانہ ہوا اور احمد یہ مشن ہاؤس میں قیام کیا۔۵ ستمبر ۱۹۶۵ء کو مقامی عہدیداران کی میٹنگ میں شرکت کی اسی روز قریباً تین بجے بعد دو پہر میاں محمد بشیر صاحب