تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 119 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 119

تاریخ احمدیت۔جلد 23 119 سال 1965ء ہمیں دھوکہ دینے کے لئے اسلامی نعرے لگا رہے ہیں۔میں نے ٹیلیفون پر فوراً اپنے آگے والے کمپنی کمانڈر سے مشورہ کیا۔اب یہ بڑی ذمہ داری کی بات تھی کیونکہ اگر وہ اپنے فوجی تھے تو ان کا نقصان ہمارے لئے تباہ کن ہوتا اور اگر وہ دشمن تھا تو ان کا نقصان ہمارے لئے بہت فائدے کا سبب ہونا تھا۔خیر! میرے کمپنی کمانڈر نے میری بات سے اتفاق کیا اور میں نے اپنے تو پخانہ کے افسر کی مدد سے مذکورہ جگہ پر فائز کا حکم دیا۔فائر کی درستی کروانے کے بعد اس جگہ کافی مقدار میں گولے پھینکے گئے۔میجر مظہر نے بعد میں رپورٹ دی کہ وہ واقعی دشمن کے سپاہی تھے۔اور ہماری بروقت گولہ باری سے اس جگہ ہندوستانیوں کے دو سے ڈھائی سوسپاہی ہلاک ہو گئے۔بھارتی فوجی ان کی لاشیں بھی نہ اٹھا سکے۔غرضیکہ چونڈہ کا محاذ میری فوجی زندگی کا یاد گار معرکہ تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمیں نمایاں فتح حاصل ہوئی۔یہ محض مولا کریم کی غیبی امداد تھی۔ورنہ بظاہر حالات میں اس محاذ کو بچانے کی امید بہت ہی کم تھی۔صدر مملکت کی طرف سے قومی دفاعی فنڈ کا قیام استمبر کوصدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے قومی دفاعی فنڈ قائم کیا اور قوم سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کی بہادر مسلح افواج کی امداد کے لئے نہایت فراخدلی سے بڑھ چڑھ کر مالی قربانیاں پیش کر کے اس فنڈ میں حصہ لیں۔صدر مملکت نے اپنی اپیل میں فرمایا کہ ہماری تاریخ کے اس انتہائی نازک مرحلہ میں جبکہ ہم ایک ظالم دشمن کے جابرانہ حملہ کے خلاف اپنے وطن عزیز کا دفاع کر رہے ہیں۔آپ میں سے ہر ایک کو اپنا مفوضہ فرض ادا کر کے ایک اہم کردار ادا کرنا ہے۔ہماری بہادر مسلح افواج میدان جنگ میں اپنے جو ہر دکھارہی ہیں قوم کو بھی اپنے تمام وسائل کو مجتمع کر کے اپنی مسلح افواج کا ہاتھ بٹانا چاہیئے اور ان کا حوصلہ بڑھانا چاہیئے۔دن رات ہر لمحہ اور ہر لحظہ آپ میں سے ہر ایک کو خود اپنے دل سے یہ سوال کرنا چاہیئے کہ قومی دفاع کی جدوجہد میں میرا اپنا حصہ کیا ہے۔آپ اس سوال کا جواب مختلف طریقوں سے دے سکتے ہیں۔فضول خرچی سے بچ کر پیداوار کو بڑھا کر اور کم خرچ کر کے بھی آپ قومی دفاع کی جدو جہد میں حصہ لے سکتے ہیں۔یادرکھیں وطن عزیز کی حفاظت کی خاطر کوئی مالی اعانت اور کوئی قربانی بھی بڑی نہیں کہلا سکتی۔اس راہ میں بڑی سے بڑی قربانی بھی حقیر شمار ہونی چاہیئے۔