تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 118 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 118

تاریخ احمدیت۔جلد 23 118 سال 1965ء یہی تھا کہ آگے بڑھو اور پیچھے ہٹنے کا خیال بھی دل میں نہ لاؤ۔اس غیر معمولی بہادرانہ فیصلے کا دشمن پر یہ اثر پڑا کہ وہ ہمارے ٹینکوں کی تعداد کو اصل سے تین گنا سمجھ بیٹھا۔دشمن کا خیال یہی تھا کہ ہر ایک ٹینک کے پیچھے دو، دو ٹینک اسے گور کر رہے ہیں۔اس زبر دست حکمت عملی سے دشمن شکست کھا گیا اور آگے نہ بڑھ سکا۔جنگی نقطہ نگاہ سے یہاں دفاع کرنا نا ممکن نظر آ رہا تھا۔ایسی خطرناک صورتحال میں بڑے سے بڑے جرنیل بھی حواس کھو بیٹھتے ہیں۔لیکن جنرل عبد العلی ملک صاحب چہرے پر بے انتہا اطمینان لئے پورے سکون کے ساتھ اپنے بریگیڈ کولڑاتے رہے۔جنرل ملک بے حد متحمل مزاج آدمی تھے۔جنگوں کی تاریخ میں بلا شبہ وہ ایک نا قابل فراموش ہیرو کی طرح یا در کھے جائیں گے۔چونڈہ کی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔چونڈہ کی جنگ کتنی شدید تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک دن جب بہت شدید بمباری ہوئی تو ہمارے تو پخانے کے ایک ماہر افسر نے بیان کیا کہ ہماری بٹالین کے ہیڈ کوارٹر کے علاقے میں چند گھنٹوں کے اندر کوئی ۴۵ ہزار گولے پھینکے گئے ہیں۔اس شدید بمباری کے دوران جبکہ میں اور دواور افسران میجر سعید اور کیپٹن عبد الباسط مورچے کے اندر تھے۔بم کا ایک دہکتا ہوا سرخ ٹکڑا ہمارے مورچے کے اندر گرا۔ہم دم بخود ہو کر اس ٹکڑے کو دیکھ رہے تھے۔اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی فضل کیا کہ مورچے کے اندر گرنے والا یہ بم کا ٹکڑا بغیر کسی نقصان کے ہی ٹھنڈا ہو گیا۔ایک مورچہ قریباً چھ فٹ لمبا اور دوفٹ چوڑا اور پھر اس مورچے میں تین افراد بھی ہوں اور تھوڑی سی جگہ خالی ہو۔دراصل ہمارا مورچہ چھت سے محروم تھا کیونکہ ہم نے اپنے جوانوں کے مورچوں پر چھت ڈلوائی تھی کہ پہلے ان کے مورچے محفوظ ہو جائیں ہم بعد میں دیکھیں گے۔شاید اللہ تعالیٰ کو ہماری یہی قربانی پسند آ گئی ہو! ہماری بٹالین جنگ کے آغاز میں جہاں تھی خدا کے فضل وکرم سے ہم جنگ بندی تک وہیں جسے رہے اور ساری بٹالین میں صرف گیارہ افرادکو نقصان پہنچا۔باقی سب محفوظ رہے۔اس ضمن میں ایک اور واقعہ یاد آرہا ہے۔ایک دفعہ رات کے وقت دشمن نے کئی اطراف سے حملہ کیا۔ہماری بٹالین کے سامنے کچھ دور اسلامی نعروں کی آوازیں آئیں۔ان میں یا علی اور نعرہ تکبیر کے الفاظ نمایاں تھے۔میں نے بڑی جلدی سمجھ لیا کہ یہ اپنے فوجی نہیں ہیں بلکہ دشمن کے فوجی ہیں۔اور