تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 117
تاریخ احمدیت۔جلد 23 117 سال 1965ء میجر حمید احمد کلیم صاحب کی خدمات مکرم میجر حمید احمد کلیم صاحب سابق ناظم جائیداد صدرانجمن احمد یه ۲۳ مارچ ۱۹۲۲ء کوضلع فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔۱۹۴۰ء میں آرمی جوائن کی۔۱۹۴۵ء میں بطور افسر کمیشن حاصل کیا۔جنگ کشمیر، فرقان فورس ، جنگ ستمبر ۱۹۶۵ ء اور جنگ ۱۹۷۱ء میں مختلف مقامات پر بہادری کے جوہر دکھائے۔فوج سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے وقف بعد ریٹائرمنٹ کے تحت اپنی زندگی خدمت دین کے لئے وقف کر دی۔اور مورخہ ۱۴ جولائی ۱۹۹۹ء کو وفات پاگئے۔ان کی فوجی زندگی کے ایک یادگار باب یعنی جنگ ستمبر ۱۹۶۵ء سے کچھ دلچسپ اور ایمان افروز واقعات پیش خدمت ہیں۔یہ واقعات آپ کے روز نامہ الفضل کو دیئے گئے ایک انٹرویو سے لئے گئے ہیں۔یہ انٹرویو مکرم یوسف سہیل شوق صاحب نے لیا تھا۔جس میں آپ نے بتایا کہ ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ میں میں نے چونڈہ کے محاذ پر خدمات انجام دیں۔یہ وہ جگہ تھی جہاں دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ لڑی گئی اور بھارت زبردست عددی اکثریت کے باوجود آگے بڑھنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔حالانکہ بھارتی فوجیوں کو امید تھی کہ وہ ایک ہی ہلے میں سیالکوٹ پر قبضہ کر لیں گے اور گوجرانوالہ کے مقام پر پہنچ کر جی ٹی روڈ کو کاٹ دیں گے۔لیکن خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ سارے منصوبے ناکام رہے۔احمدی جرنیل لیفٹینٹ جنرل عبد العلی ملک جو اس وقت بریگیڈئیر تھے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انہوں نے جنگوں کی تاریخ میں ایک انوکھی اور غیر معمولی حکمت عملی سے کام لیا۔ٹینکوں کی لڑائی کا طریق یہ ہوتا ہے کہ ایک ٹینک آگے ہوتا ہے اور دو ٹینک اس کو کو ر دیتے ہوئے اس کے پیچھے چلتے ہیں لیکن بریگیڈئیر عبدالعلی ملک نے ایک انوکھا طریق اختیار کیا جو مشہور جرنیل طارق بن زیاد کے کشتیاں جلا کر آگے بڑھنے کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔طارق بن زیاد نے یہی کیا تھا کہ اپنا پیچھا (BACK) ختم کر دیا تھا۔جس کا مطلب یہ تھا کہ پیچھے ہٹنے کا سوال ہی نہیں ،صرف اور صرف آگے جانا ہے یا مر جانا ہے۔جنرل ملک صاحب نے بھی ایسا ہی کیا انہوں نے ایک ٹینک آگے اور دو پیچھے رکھنے کے مسلمہ اصول سے انحراف کرتے ہوئے زبر دست جرات و بہادری کا یہ فیصلہ کیا کہ اپنے تمام ٹینکوں کو ایک سیدھی افقی قطار میں دفاع کا حکم دیا اور اس طرح اپنی پشت بالکل غیر محفوظ کر دی۔مقصد