تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 116 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 116

تاریخ احمدیت۔جلد 23 116 سال 1965ء احمدی جنرل محمود الحسن صاحب کی طبی خدمات بریگیڈئیر ریٹائر ڈ نصرت جہاں سلیم صاحبہ تمغہ امتیاز (ملٹری) نے ”جنگ ستمبر کی یاد میں“ کے عنوان سے ایک زخمی سپاہی کی بہادری کا ذکر کیا اور احمدی جنرل ڈاکٹر محمودالحسن صاحب کی خدمات کے بارے میں بھی تحریر کیا چنانچہ لکھتی ہیں:۔” مجھے وہ سپاہی کیسے بھول سکتا ہے جو آپریشن ٹیبل پر لیٹنے سے پہلے افسوس سے کچھ ماں کا نام لے کر کہہ رہا تھا۔ماں جی! معاف کرنا ماں جی معاف کرنا۔میں نے پوچھا کیا بات ہے کیوں ایسے کہہ رہے ہو۔کہنے لگا کچھ نہیں بہن جی قسمت خراب ہے۔ماں نے کہا تھا بیٹا جارہے ہو۔اللہ تمہارا نگہبان ہو جاؤ لیکن جانے سے پہلے ایک وعدہ کرو کہ دشمن سے گولی پیٹھ پر نہ کھانا بلکہ سینے پر کھانا مجھے تو گولی ٹانگ پر لگ گئی ہے۔ماں کو کیا جواب دوں گا۔میں نے کہا ہم تمہیں انشاء اللہ جلد ٹھیک کر دیں گے اور تم واپس جا کر بہادری سے مقابلہ کرنا۔کہنے لگا نہیں بہن جی میرا یہ ارمان ہی رہے گا نہ تو میں اتنی جلدی ٹھیک ہوسکوں گا نہ ہی یہ لڑائی اتنی دیر جاری رہے گی۔میں نے اسے تسلی دی اور اس کا آپریشن شروع کر دیا اس کے کو لہے کے پاس سے گولی اندر کو گئی تھی جب زخم کھولا تو گولی سینے کی طرف نکل گئی تھی۔پیٹ بند کیا تو سینہ کھولا۔گولی سینے میں محفوظ بیٹھی تھی اس سپاہی کے دعوے کی شہادت کیلئے پڑی ہوئی تھی۔اس تمام عرصے میں جو کچھ دیکھتی رہی اور اپنی آنکھوں سے بہتے اشکوں کی دھند میں غرق تصور میں اس ماں سے باتیں کرنے لگی کہ اے میرے سپاہی کی شہادت پانے والی ماں تیرے بیٹے نے گولی سینے میں ہی کھائی ہے اور آج تک تصور میں ہی اس ماں کو تلاش کرتی رہی ہوں اس سارے عرصہ میں کافی خون بہہ جانے کی وجہ سے جنرل محمود الحسن کی بے حد کوشش کے باوجود ہم اسے نہ بچا سکے۔جنرل محمود الحسن کیا کمال انسان ہے۔درد دل رکھنے والا بھوکا رہ کر زخمیوں کا مسیحا اپنے آرام کی نہ پرواہ کرتے ہوئے ہر دم زخمی مجاہدوں کے زخم سیتا رہتا اور زندگیاں بانٹتا اور اپنی ٹیم کے جذبوں کو جوان رکھتے ہوئے شبانہ روز اپنے فرائض کی بجا آوری میں کوتا ہی نہ کرتا۔انہی خدمات کے صلے میں پوری ٹیم کو حکومت کی طرف سے اعزازات سے نوازا گیا۔جس میں میں بھی شامل تھی اور ان ہی شبانہ روز خدمات کے اعتراف میں تمغہ قائداعظم سے نوازا گیا۔