تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 103
تاریخ احمدیت۔جلد 23 103 سال 1965ء کے محاذ پر حصہ لیا۔دشمن کی کئی گاڑیاں اور ٹینک تباہ کئے۔• استمبر کو فیروز پور کے ۲۰ میل جنوب مشرق میں دشمن کے ایک ناٹ طیارے کو مار گرایا۔بھارتی فضائیہ نے امرتسر میں ایک طاقتور ریڈارٹیشن نصب کر رکھا تھا۔اسے تباہ کرنا بہت ضروری تھا اسے چند روز پہلے زبر دست نقصان پہنچایا گیا تھا لیکن دشمن نے اسے پھر ٹھیک کر لیا تھا۔استمبر کو ونگ کمانڈ رشیم کی قیادت میں تین طیارے امرتسر بھیجے گئے تھے۔ان میں منیر بھی شامل تھے۔وہ اس سے پہلے تمام حملوں میں بھی موجود رہے تھے لیکن اس دن انہوں نے جان پر کھیل کر یہ ٹنٹا ( جھگڑا، فساد ) ہمیشہ کے لئے ختم کر دینے کا عزم کیا ہوا تھا۔انہوں نے اسی مشن میں شہادت دی لیکن دشمن کا یہ ریڈارسٹیشن ہمیشہ کے لئے خاموش کر دیا گیا تھا۔منیر کی پرواز کا مشن پورا ہو گیا تھا۔اس سلسلہ میں سترہ روزہ جنگ ستمبر پر اخبارات میں چھپنے والے ایک مضمون میں زاہد ☆ یعقوب عامر جنگ کا ایک نقشہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔امرتسر کا ریڈار پاک فضائیہ کے اڑنے والے طیاروں کے لئے ایک اہم مسئلہ تھا۔جس کو ختم کرنے کے لئے ونگ کمانڈر انور شمیم نے سرگودھا ائیر بیس سے ہوا بازوں کے ایک گروپ کو حملہ کے لئے منتخب کیا۔اس حملہ میں سکوارڈن لیڈر منیر احمد نے رضا کارانہ طور پر اپنے آپ کو پیش کیا۔پاک فضائیہ کے دستے نے دشمن کے اندرا ہم ریڈار کو تباہ کر دیا۔مگر اس حملہ میں سکواڈرن لیڈر منیر احمد دشمن کی زمینی تو پوں کا نشانہ بن گئے اور شہادت کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہوئے“۔پروفیسر (ر) منور شمیم خالد صاحب روز نامہ جنگ کے مندرجہ بالا مضمون پر تبصرہ کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:۔جنگ اخبار کا مضمون پڑھا تو آج سے دو عشرے قبل لاہورہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے ایک واقعہ کی یاد تازہ ہوگئی جس کے چشم دید راوی سینئیر ایڈووکیٹ چوہدری غلام مجتبی ہیں جو ایوان عدل کے اندر انسانی بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے عدلیہ کے محاذ پر تادم واپسیں سرگرم عمل رہے۔انہوں نے راقم الحروف کو بتایا کہ بار کے اجلاس عام میں سینکڑوں وکلاء کو پاک فضائیہ کے سابق سربراہ ائیر مارشل (ر) محمد اصغر خان صاحب نے خطاب کیا۔خطاب کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ چلا۔کسی وکیل نے نہ جانے کس مقصد اور کس قسم کا جواب حاصل کرنے کے لئے مہمان خصوصی سے سوال کیا کہ کیا پاکستان کے احمدی / قادیانی ملک وقوم کے وفادار ہو سکتے ہیں؟ اس طرح کے سوال کا مطلب یہی ہو