تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 89
تاریخ احمدیت۔جلد 23 89 سال 1965ء فوج کے ساتھ وہی کچھ کیا جو پورس کے ہاتھیوں نے اپنی فوج کے ساتھ کیا تھا۔یہ ٹینک روشنی کے گولے پھینکتے تھے اور پھر گولیاں چلاتے تھے۔مگر اس روشنی نے انہیں مغالطے میں ڈالا اور انہوں نے اپنے ہی فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔اس محاذ پر شکست خوردہ دشمن نے ایک مرتبہ پھر قسمت آزمائی کی۔اور 19 ستمبر کو رات کی تاریکی میں چونڈہ پر حملہ کر دیا۔یہ حملہ بھی چار روز کی خوفناک جنگ کے بعد بری طرح پسپا کر دیا گیا۔اس لڑائی میں دست بدست جنگ بھی ہوئی۔بہت گھمسان کا رن پڑا۔اور صبح کو لاشیں شمار کی گئیں تو یہ کم وبیش چھ سوتھیں جنہیں بھارتی فوج مسلسل آٹھ روز تک اٹھاتی رہی۔بریگیڈئیر عبدالعلی ملک علم و ادب کا گہرا مطالعہ رکھتے ہیں۔جنگ ،امن ، معاشیات، مذہب، سائنس تاریخ ، صحافت اور تعمیر نو کے علوم میں دسترس رکھتے ہیں۔62 ۵۔جناب بی۔اے ریٹائر ڈ بریگیڈئیر نے روزنامہ نوائے وقت میں زیر عنوان ” جنگ ۱۹۶۵ء۔سیالکوٹ محاذ کی روداد میں لکھا:۔۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ میں سیالکوٹ کے محاذ پر بریگیڈئیر عبدالعلی ملک کے ۲۴ بر یگیڈ کو جو اس وقت چارواہ میں دفاعی پوزیشن سنبھالے ہوئے تھے۔یہ حکم دیا گیا کہ وہ فوراً جسٹر کی طرف کوچ کرے۔جہاں بھارتی فوج کا زور بڑھ رہا تھا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بریگیڈئیر عبدالعلی ملک نے اس حکم پر سخت احتجاج کیا۔اور یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ چارواہ کا علاقہ نہایت اہم ہے اور اسے کسی حالت میں خالی نہ چھوڑنا چاہیئے۔لیکن ان کی کچھ پیش نہ گئی اور وہ اپنے بریگیڈ کے ساتھ نارووال کی طرف کوچ کر گئے۔( آدھا راستہ طے کرنے کے بعد انہیں فوراوا پس آنے کا حکم دیا گیا۔کیونکہ بھارتی فوج کا بڑا حملہ چارواہ کے علاقے میں شروع ہو چکا تھا ) ۲۴ بر یگیڈ ۵ ڈویژن کا حصہ تھا۔اور اس کے جانے کے بعد اس ڈویژن میں انفنٹری کی صرف چار پلٹنیں بچ گئی تھیں۔بھارتی فوج کا بڑا حملہ سات اور آٹھ ستمبر کی درمیانی رات کو چار واہ پر شروع ہوا۔جہاں ۲۴ بر یگیڈ تعینات تھا اور جس کو خالی کرنے پر بریگیڈئیر ملک نے سخت احتجاج کیا تھا۔اب وہاں صرف ایک آدھ کمپنی کی نفری رہ گئی تھی جو بریگیڈئیر ملک اپنے طور پر چھوڑ گئے تھے ) یہاں پر اس منصوبے کو زیادہ تفصیل میں بیان کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ اس بڑی لڑائی میں جنرل ٹکا خان نے کوئی اہم فوجی کردار ادا نہیں کیا۔کیونکہ بھارتی منصوبے میں سیالکوٹ پر قبضہ کرنا بعد کی بات تھی۔بھارت کے بڑے حملے کا اصل زور پہلے دوروز تک ۲۴ بر یگیڈ نے کامیابی سے برداشت کیا اور بعد میں جنرل ابرار حسین کے چھ ڈویژن نے۔بریگیڈئیر