تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 83
تاریخ احمدیت۔جلد 22 83 سال 1963ء پریذیڈنٹ نامزد کر کے باقاعدہ جماعتی تنظیم کی داغ بیل رکھی اور تبلیغ کو کامیاب ، موثر اور وسیع کرنے کے لئے اہم ہدایات دیں اور تبلیغی لائحہ عمل تجویز فرمایا۔سنگاپور : (۱۹ تا ۲ جولائی ) یہاں مولانامحمد صدیق صاحب امرتسری مبلغ سنگا پور، عبدالحمید صاحب سالکین اور دوسرے احمدی احباب نے آپ کا استقبال کیا۔میرم سالکین صاحب اور مبلغ سنگا پور نے جماعت کی ترقی کے لئے بعض تجاویز پیش کیں جس پر دوبارہ تفصیلی بحث کو انڈونیشیا سے واپسی تک ملتوی کیا گیا۔چنانچہ آپ نے اس غرض سے انڈو نیشیا کا دورہ مکمل کرنے کے بعد ۸ تا ۱۱ راگست تین روز قیام فرمایا ہے۔۲۰ جولائی کی شب آپ کوالا لمپور میں قیام فرما رہے۔اس جگہ مولانا محمد سعید صاحب انصاری بطور مبلغ انچارج متعین تھے اور انہی کی مساعی کے نتیجہ میں یہ نئی جماعت معرض وجود میں آئی تھی۔۲۱ جولائی کی صبح کو آپ مشن ہاؤس تشریف لے گئے۔مولا نا انصاری صاحب نے مقامی احباب کا تعارف اسمعیل بن کر سہ پریذیڈنٹ جماعت کی معیت میں کرایا جس کے بعد مشن ہاؤس کی مسجد میں آپ کی زیر صدارت اجلاس ہوا بعد ازاں اس ملک میں اسلام کی ترقی سے متعلق مقامی جماعت کی چھ تجاویز زیر غور آئیں۔میاں صاحب نے مفید مشورے دیئے اور ضروری فیصلے کئے گئے۔انڈونیشیا: (۲۲ جولائی تا راگست) انڈونیشیا میں ان دنوں سات پاکستانی اور دس انڈونیشین مبلغ اشاعت اسلام میں مصروف عمل تھے جن کے رئیس التبلیغ سید شاہ محمد صاحب تھے۔جکارتہ کے ہوائی اڈہ پر تاسیک ملایا ، سنگا پرنا، گاروٹ ، بنڈونگ، سوکانومی ، بوگوڑ ، میئران، سورابایا ، پاڈانگ، لومت وغیرہ کی دور دراز جماعتوں کے نمائندگان نے صاحبزادہ صاحب کا پُر جوش استقبال کیا۔۲۳ جولائی کو آپ کی انڈونیشیا کے وزیر اطلاعات ( جو نائب وزیر اعظم بھی تھے ) مسٹر ڈاکٹر حاجی ارسلان عبدالغنی سے ایک وفد کی صورت میں ملاقات ہوئی جس میں رئیس التبلیغ صاحب، جنرل سیکرٹری اور کمال یوسف صاحب شامل تھے۔وہ افریقہ میں جماعت احمدیہ کی ترقی اور اس کے نتیجہ میں اسلامی غلبہ سے بہت متاثر ہوئے۔اور کئی امور پر تبادلہ خیالات کیا۔پریس نے وسیع پیمانے پر اس ملاقات کا ذکر کیا۔۲۴ جولائی کو آپ نے بنڈ ونگ تشریف لے جاتے ہوئے رستہ میں ایک خانہ خدا کا افتتاح فرمایا۔بنڈونگ میں آپ نے اجتماع خدام الاحمدیہ میں شرکت فرمائی اور زریں نصائح سے نوازا۔نیز خدام میں انعامات تقسیم فرمائے۔143