تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 81
تاریخ احمدیت۔جلد 22 81 سال 1963ء یکم جولائی ۱۹۶۳ء کو ایک مرکزی وفد جو حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب ناظر دعوت و تبلیغ، شیخ عبدالحمید صاحب عاجز ناظر بیت المال، نواب غلام احمد خاں صاحب ایڈووکیٹ حیدر آباد دکن اور مکرم محمد کریم اللہ صاحب ایڈیٹر اخبار آزاد نو جوان (مدراس) پر مشتمل تھا دہلی گیا۔وفد کی ملاقات شری مہر چند صاحب کھنہ (وزیر بحالیات)، جنرل شاہنواز صاحب، ہمایوں کبیر صاحب ،شری مرار جی ڈیسائی (وزیر مال) اور انیس احمد صاحب عباسی ایڈیٹر ” قومی آواز سے ہوئی۔جس کے نتیجہ میں وزارت بحالیات نے اپنے محکمہ کے افسران کی رپورٹوں کی بناء پر اس حد تک اتفاق کر لیا کہ بجائے ڈھائی گنا ریز رو پرائس کے جائیدادوں کی اصل مارکیٹ قیمت کے مطابق ریز رو قیمت کا چوالیس فیصدی جماعت سے وصول کیا جائے۔اس بناء پر وزارت بحالیات نے اپنا مطالبہ دولاکھ چوبیس ہزار سات سورو پیہ تک محدود کر دیا لیکن صدرا انجمن احمدیہ کی تقریباً چودہ لاکھ کی رقم ادا کرنے سے معذوری ظاہر کر دی جو اس کے ذمہ واجب الا داتھی۔جناب وزیر بحالیات نے ملاقات کے دوران بہشتی مقبرہ کے بڑے باغ کی قیمت کو محکمہ کے مطالبہ سے کم کرانے کا وعدہ کیا۔قبل ازیں وزارت بحالیات نے اپنے نوٹس مجریہ 4 جون ۱۹۶۲ء میں یہ بھی تحریر کیا کہ اس نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے رہائشی مکان کی قیمت کو مطالبہ میں شامل نہیں کیا لیکن وزارت بحالیات نے بالآخر یہ مطالبات بھی مستر دکر دئیے۔انجمن کی مالی حالت اُن دنوں مخدوش تھی لیکن مقامات مقدسہ کی حفاظت کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کے مطالبہ کی ادائیگی کی ذمہ داری قبول کر لی جائے۔چنانچه ۴ ستمبر ۱۹۶۳ء کو شیخ عبدالحمید صاحب عاجز (ناظر بیت المال ) اور ملک صلاح الدین 136 صاحب ایم اے مولف اصحاب احمد نے دہلی میں جنرل شاہ نواز خاں صاحب مرکزی وزیر اور محکمہ بحالیات کے ڈپٹی سیکرٹری سوتری پرشاد سے ملاقات کی اور انجمن کی طرف سے پانچ سالوں میں مطلوبہ رقم کی ادائیگی پر اظہار رضا مندی کیا۔اور دہلی سے واپسی کے بعد استمبر ۱۹۶۳ء کو محترم عاجز صاحب اور چوہدری سعید احمد صاحب جالندھر تشریف لے گئے جہاں انہوں نے محکمہ کے ڈی آرایم او کے ساتھ با قاعدہ معاہدہ کی تکمیل کی اور پہلے سال کی قسط کی رقم قرض لے کر بذریعہ سٹیٹ بنک جالندھر جمع کرا دی اس طرح یہ معاملہ مستقل طور پر طے ہوا۔