تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 719
تاریخ احمدیت۔جلد 22 719 سال 1964ء (۱۰) مکرم سید محمد ہاشم صاحب بخاری۔(۱۱) مکرم مصطفیٰ سنوسی صاحب سابق ڈپٹی پرائم منسٹر نے اپنی تقریر میں احمدیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا احمدیت کے ذریعہ ہی درحقیقت یہاں پر اسلام کی بنیادیں مضبوط ہوئی ہیں۔حضرت مولانا نیر صاحب جیسے اسلام کے نڈر سپاہیوں نے عیسائیت کو شکست فاش دی۔میں اس حقیقت کے برملا اظہار سے نہیں رک سکتا کہ پاکستانی احمدی مبلغین نے باوجود تکالیف اور مصائب کے اسلام کی خاطر عظیم الشان قربانیاں کی ہیں۔ہمارے یہ پاکستانی بھائی ہندوستانی تاجروں کی طرح کسی تجارت اور دولت کی غرض سے نہیں آئے۔انہوں نے قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ اور دیگر دینی لٹریچر مہیا کر کے ہمیں حقیقی اسلام سے روشناس کرایا ہے۔(۱۲) ایف اے رحمان نے تقریر کرتے ہوئے کہا ” جماعت احمدیہ نے ان نامساعد حالات میں جو نمایاں اور عظیم الشان ترقی کی ہے اس پر یہ جماعت جس قدر بھی فخر کرے بجا ہے“۔(۱۳) پیرامونٹ چیف ابو بمبانے اپنے خطاب میں احمدیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ” ان کی دینی خدمات کا اعتراف کرنے پر ہم سب مجبور ہیں۔بے شک پیدائشی طور پر ہم مسلمان تھے لیکن عملاً ہم تاریکی اور ظلمت کا شکار تھے۔احمدیوں نے یہاں آکر ہمارے راستہ کو منور کیا“۔(۱۴) سیرالیون کی جماعت کے سیکرٹری جنرل مسٹر بونگے نے سالانہ مساعی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ باوجود عظیم مشکلات کے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جماعت کو فری ٹاؤن جیسے شہر میں نہایت موزوں اور مناسب جگہ پر ملک کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کی خاطر ایک عظیم الشان عمارت میں سیکنڈری سکول کے اجراء کی توفیق عطا فرمائی۔(۱۵) حاجی رو جر ز صدر جماعت احمدیہ ہو نے احباب کو مالی قربانی کی اپیل کی جس کے نتیجہ میں احباب نے یکصد پونڈ سے زائد رقم پیش کی۔جلسہ کے دوران مجلس شوری کا انعقاد بھی ہوا۔متعدد غیر از جماعت احباب جلسہ سے متاثر ہوکر احمدیت میں شامل ہوئے۔غانا اس سال جماعت احمد یہ غانا کا جلسہ سالانه ۲ تا ۴ جنوری ۱۹۶۴ء کو سالٹ پانڈ میں منعقد ہوا۔جلسہ میں تقریباً ۴ ہزار افراد شامل ہوئے۔مولوی عطاء اللہ صاحب کلیم امیر جماعتہائے احمد یہ غانا نے جلسے کا افتتاح فرمایا۔آپ کے علاوہ درج ذیل مبلغین ومخلصین نے تقاریر کیں۔سید داؤ د احمد صاحب انور، عبد اللہ بوائٹنگ گھانا یونیورسٹی اکرا ( آپ کی تقریر کا ایک حصہ ریڈ یو غانا سے بھی نشر ہوا )