تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 717 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 717

تاریخ احمدیت۔جلد 22 717 سال 1964ء بہاؤ الدین صاحب مشن ہاؤس تشریف لائے تو آپ نے ان سے تبادلہ خیالات کیا اور انہیں لٹریچر پیش کیا۔فروری ۱۹۶۴ء کے آخر میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے کوالا لمپور تشریف لے گئے۔حضرت چوہدری صاحب نے مشن ہاؤس میں نماز جمعہ پڑھائی۔جس میں سیرالیون کے نائب وزیر اعظم مصطفے سنوسی بھی شامل ہوئے۔نماز جمعہ کے بعد جماعت احمدیہ کی طرف سے جناب مصطفے سنوسی صاحب کی خدمت میں ایڈریس پیش کیا گیا۔آپ نے جواب ایڈریس میں جماعت احمدیہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے فرمایا:۔جماعت احمدیہ کے مبلغین نے بروقت افریقہ پہنچ کر افریقن مسلمانوں کو نہ صرف جگایا اور ہوشیار کر دیا بلکہ انہیں عیسائیت کے مضبوط ہتھکنڈوں اور گمراہ کن جال سے بچانے کا اہم اور قابل قدر کردار ادا کیا ہے اس لئے ہم مسلمان لیڈر باوجود با قاعدہ طور پر احمدیت میں شامل نہ ہونے کے جماعت احمدیہ کے شکر گزار ہیں اور ان کی مساعی کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔سیرالیون مولوی بشارت احمد صاحب بشیر انچارج سیرالیون مشن کی مساعی سے سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعہ احمدیت کے اثر و نفوذ میں اضافہ ہوا۔چنانچہ ریڈیو پر آپ کی تقریر اور ٹی وی سے آپ کا انٹرویو نشر ہوا۔آپ نے وزراء، سفراء اور دیگر معززین کو لٹریچر پیش کیا۔فری ٹاؤن سے چھ میل دور لسنر کی جماعت میں چھ مرتبہ تشریف لے گئے۔آپ نے مشن ہاؤس میں میئر آف فری ٹاؤن، آنریبل کا نڈے بورے نائب وزیر اعظم و وزیر مواصلات، وزیر تعلیم ، عبدالعزیز صاحب خیراتی سفیر متحده عرب جمہوریہ سے مختلف مسائل پر گفتگو کی۔صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب نے ایک امریکن وفد سے خطاب کیا۔ملک غلام نبی صاحب ( انچارج بواجے مشن ) اور اقبال احمد صاحب (انچارج روکو پُرمشن ) نے چالیس مقامات کا نہایت کامیاب تربیتی و تبلیغی دورہ کیا۔جس کے نتیجہ میں چودہ افراد حلقہ بگوش احمدیت ہوئے۔ملک غلام نبی صاحب نے اپنے حلقے کے متعدد مقامات کا بھی تبلیغی دورہ کیا اور پبلک لیکچر دیئے۔