تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 714
تاریخ احمدیت۔جلد 22 714 سال 1964ء چنانچہ نیوٹاؤن کمیونٹی لوزیلز میں ایک بڑا کمرہ کرایہ پر لیا جا تا۔اس مقصد کے لئے ہر ماہ چند گھنٹوں کے لئے ایک علیحدہ کمرہ مستورات کے اجلاس کے لئے بھی کرایہ پر لیا جا تا۔مکرم رشید احمد صاحب بچوں کے لئے تعلیمی کلاسز کا انتظام کیا کرتے تھے۔مکرم عبدالرشید ارشاد ریحان صاحب سیکرٹری صاحب تعلیم کی مددکیا کرتے تھے۔۱۹۶۷ میں حضرت مولوی قدرت اللہ سنوری صاحب اور مکرم شیخ مبارک احمد صاحب سیکرٹری فضل عمر فاؤنڈیشن نے فضل عمر فاؤنڈیشن کے لئے عطیات جمع کرنے کے لئے برمنگھم کا دورہ کیا۔بہت سے احباب نے اس سکیم میں طوعی طور پر فیاضانہ حصہ لیا۔۱۹۶۸ء میں مکرم ڈاکٹر نذیر احمد صاحب برمنگھم میں رہنے اور کام کرنے کے لئے آئے۔آپ اوٹن روڈ آسٹن میں اپنی پریکٹس شروع کرنے سے پہلے چار ماہ تک مکرم چوہدری عبدالحفیظ صاحب کے گھر ۵۰ وارن روڈ پر قیام پذیر رہے۔مکرم ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ایک پر جوش داعی الی اللہ تھے۔اور بہت سے ویسٹ انڈین لوگوں کے قبول احمدیت کا ذریعہ بنے۔کمپیوٹر پروگرامر مکرم شکیل احمد صاحب نے کئی سال سیکرٹری تحریک جدید کے طور پر کام کیا۔۱۹۶۹ء میں آپ بہتر مقاصد کے لئے لندن چلے گئے۔نماز جمعہ احمدیہ مرکز اور مکرم ڈاکٹر نذیر احمد صاحب کے کلینک پر ادا کی جاتی تھی۔۱۹۷۰ء میں ڈاکٹر سید فاروق احمد صاحب مانور ہسپتال والسال میں کام کرتے تھے۔ایک دن انہوں نے ایک اور ڈاکٹر محمد زکریا طاہر صاحب کو تبلیغ شروع کر دی۔مکرم ڈاکٹر محمد زکریا طاہر صاحب ایک پاکستانی احمدی تھے۔لیکن مکرم ڈاکٹر سید فاروق احمد صاحب کو اس بات کا علم نہیں تھا۔کیونکہ وہ کچھ عرصہ ہی پہلے بہار، بھارت سے وہاں تشریف لائے تھے۔تھوڑی دیر سننے کے بعد ڈاکٹر طاہر صاحب مسکرائے اور کچھ کہے بغیر باہر چلے گئے۔ڈاکٹر سید فاروق صاحب نے مطیع اللہ دردصاحب کو فون کیا اور اپنی پر جوش تبلیغ کے متعلق بتایا۔جیسے ہی انہوں نے ڈاکٹر زکریا طاہر صاحب کا نام لیا تو یہ سن کر بہت حیران ہوئے کہ ڈاکٹر ایم زیڈ طاہر صاحب تو پہلے ہی احمدی ہیں۔ڈاکٹر فاروق صاحب نے ڈاکٹر طاہر صاحب سے معذرت کی اور بعد میں دونوں پریکٹس میں پارٹنر بن گئے۔۲۰ را گست ۱۹۷۰ء کو مشہور شاعر جناب ثاقب زیروی صاحب، چوہدری محمد ادریس نصر اللہ