تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 713
تاریخ احمدیت۔جلد 22 713 سال 1964ء ۱۹۶۷ء کے اوائل میں انہوں نے برمنگھم کو خیر باد کہہ کر شمالی لندن میں سکونت اختیار کر لی۔آپ شمالی لندن جماعت کے صدر اور کئی سال تک احمدیہ ایسوسی ایشن یو کے کے فعال رکن رہے۔جب مکرم محمد عبدالرشید صاحب نے لندن کے لئے برمنگھم کو چھوڑا تو امام صاحب اور مشنری انچارج یو کے نے سیکرٹری صاحب مال کو قائمقام صدر نامزد کر دیا۔ایشیائی اور افریقی مہاجرین کی آمد سے برمنگھم جماعت کی تعداد بڑھنے لگی۔مکرم محمد اقبال ڈار صاحب اور ان کے بھائی مکرم اکرام ڈار صاحب تنزانیہ سے تشریف لائے۔۱۹۶۴ء میں جب ٹانگانیکا اور زنجبار کو ملا دیا گیا تو اس نئے مشرقی افریقی ملک کا نام تجویز کرنے کے لئے مکرم ڈاکٹر محمد اقبال ڈار صاحب ایک بین الاقوامی مقابلہ میں شامل ہوئے۔مقابلے میں ۸۸ مختلف ممالک کے افراد شامل تھے۔مکرم ڈاکٹر محمد اقبال ڈار صاحب کی کامیاب کاوش ” تنزانیہ" نے انہیں ایک سرٹیفکیٹ ، ایک قومی میڈل اور نقد انعام کا حقدار بنادیا۔مکرم قاری محمد یسین خان صاحب کے بیٹے محمد الیاس خاں صاحب جو ایک زیر تربیت نوجوان وکیل تھے۔پریکٹس کے لئے یہاں آئے۔ان کے والد صاحب نے مطیع اللہ درد صاحب کو الیاس کی خصوصی سر پرستی اور انہیں جماعت کا ایک فعال رکن بننے کی ترغیب دلانے کی درخواست کی۔وہ بعد میں ۱۹۷۰ء میں جنرل سیکرٹری بن گئے۔چند سال بعد ان کو جماعت احمد یہ برمنگھم کا صدر منتخب کر لیا گیا۔جماعتی قواعد وضوابط کے مطابق پہلا باقاعدہ انتخاب ۳ دسمبر ۱۹۶۷ء کو ہوا۔امام صاحب اور مشنری انچارج صاحب لندن نے درج ذیل افراد کو منتخب فرمایا۔صدر جناب مطیع اللہ در دصاحب۔جنرل سیکرٹری اور سیکرٹری مال چوہدری عبدالحفیظ صاحب سیکرٹری تعلیم جناب راشد صاحب در دصاحب کا گھر ۵۰ براڈوے برمنگھم ، بی ۲۰-۳ رای اسے احمد یہ۔۔۔جماعت کا سنٹر مقرر کیا گیا۔گھر کا سامنے کا کمرہ جماعتی سرگرمیوں اور شوری کے لئے مخصوص کر لیا گیا۔متفرق احمدی گھرانوں میں متعدد ماہانہ اجلاس باری باری منعقد کئے گئے۔ان حالات میں صاف نظر آنے لگا کہ بڑھتی ہوئی ضروریات کے لئے جماعت کو ماہانہ اجلاس کے لئے نسبتاً ایک بڑی جگہ درکار ہے۔