تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 712 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 712

تاریخ احمدیت۔جلد 22 712 سال 1964ء ایک ماہانہ میٹنگ میں شمولیت فرمائی اور نہایت شفقت کے ساتھ چغتائی برادران کے آباء واجداد حضرت میاں چراغ دین صاحب اور حضرت حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی آف لاہور کے خلافت ثانیہ کے آغاز کے حالات بیان فرمائے۔۶۷۔۱۹۶۶ء میں بہت سے دیگر احمدی احباب رہائش کے لئے برمنگھم تشریف لائے۔محترم رشید احمد صاحب سیرالیون سے اور چوہدری عبد الحفیظ صاحب نے یہاں سکونت اختیار کی۔چند احمدی گھرانے ہیمنگٹن سپا، کومنٹری، والسال اور دیگر اردگرد کے علاقہ جات میں آباد تھے۔ان سب کا تعلق جماعت احمد یہ برمنگھم سے تھا۔ملک نثار احمد صاحب ،سید ظہور احمد شاہ صاحب، ملک محمد یعقوب صاحب، جناب عبدالہادی مہتہ صاحب، محمد افضل سیٹھی صاحب، شیخ مسعود احمد صاحب ،مبشر احمد خاں صاحب، ملک فضل الہی صاحب، ملک عبدالرحمن صاحب اور ملک محمد احمد صاحب پہلے ہی یہاں آچکے تھے۔فضل الہی صاحب مرحوم کے اہل خانہ نے ہیلی ساون میں ایک گھر خریدا۔ان کی بیوہ جناب بشیر احمد حیات صاحب آف لندن کی بہن تھی۔ان کے بیٹے جماعتی کاموں میں گہری دلچسپی لیتے تھے۔ڈینٹل سرجن جناب ظفر محمود صاحب سولی ہل میں پریکٹس کیا کرتے تھے۔انہوں نے لیڈی بائرن لین ، کانول میں ایک کشادہ گھر بنالیا۔ایک دفعہ جماعت کا ایک ماہانہ اجلاس اس میں کیا گیا۔مکرم چوہدری عبدالغفور صاحب اور ان کے بھائی جناب محمد رفیق صاحب لیـمـنـگٹن سپائیں دعوت الی اللہ کی سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لیتے تھے۔جناب عبدالغنی صاحب زرگر اور ان کے بیٹے منور احمد صاحب، مبشر احمد صاحب اور مظفر احمد صاحب ساکن والسال تبلیغی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔جناب منور احمد صاحب بعد میں ماہنامہ ”الخاتم “ شائع کرتے رہے۔حضرت مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر تحریک جدید، میر مسعود احمد صاحب اور امام بشیر احمد رفیق صاحب کے ساتھ جون ۱۹۶۵ء کو ایک دن کے لئے یہاں تشریف لائے اور اپنے بین الاقوامی سفر کے ایک حصہ کے طور پر وہاں جماعتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔جناب محمد عبدالرشید صاحب ایک بہترین شخصیت تھے۔شفیق ، دیانت دار اور ایک مشہور سماجی کارکن تھے جو پاکستان قونصلیٹ کے طور پر ملازم تھے۔ان کے پاس ایک چھوٹی گاڑی تھی جو جماعتی مقاصد کے لئے استعمال ہوتی تھی۔ان کو صدر جماعت مقرر کیا گیا۔