تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 711
تاریخ احمدیت۔جلد 22 711 سال 1964ء اس سال آکسفورڈ اور برمنگھم میں نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے آکسفورڈ کی جماعت سے خطاب فرمایا۔مولانا بشیر احمد خان صاحب رفیق نے نو گھم نیوسن ایسوسی ایشن اور روٹری کلب آف ٹیڈنگٹن (TEDDINGTON) اور ینگ لبرل ایسوسی ایشن سے مؤثر خطابات کئے۔علاوہ ازیں آپ نے ڈارٹ فورڈ کے پیرس چرچ کے متعد دارکان کو پیغام حق پہنچایا اور وانسٹس ورتھ بورڈ نیوز کے نیوز ایڈیٹر کو جماعت احمدیہ کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا اور دینی لٹریچر پیش کیا۔اسی طرح پال مرس (PALMERS) گرل سکول کی طالبات کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کیا اور لٹریچر بھی دیا۔ماہنامہ البصیرت بریڈ فورڈ اپریل ۱۹۶۴ء صفحہ ۳۳ پر لکھا ہے:۔۱۹۶۴ء و ۱۹۶۵ء میں حضرت چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب اُس وقت کے امام مسجد لندن بشیر احمد رفیق خان صاحب کے ہمراہ بریڈ فورڈ تشریف لائے اور مور لے سٹریٹ میں میر فیملی کی ایک دکان پر دعا فرمائی۔آپ نے ہڈرزفیلڈ، پریسٹن اور بلیک برن تشریف لے جا کر وہاں نئی جماعتیں قائم کیں۔بیگم صاحبہ چوہدری منصور صاحب نے بیگم صاحبہ عبید اللہ میر صاحب کے تعاون سے لجنہ قائم کی۔جماعت برمنگھم کی ابتدائی تاریخ مکرم مطیع اللہ درد صاحب ابن محترم ملک برکت اللہ درد صاحب ( بھائی حضرت عبد الرحیم درد صاحب) برمنگھم میں جماعت کے قیام کی ابتدائی تاریخ بیان کی ہے جس کے مطابق برمنگھم میں جماعت احمدیہ کا قیام نومبر ۱۹۶۴ میں ملک نوراحمد صاحب ساکن ۳۴ سیکنڈایونیو، سیلی پارک بی ۲۹ کے گھر عمل میں آیا۔مسجد فضل لندن کے امام اور مشنری انچارج احباب کی تنظیم سازی کے لئے برمنگھم تشریف لائے۔اور محمد عبدالرشید صاحب اور مطیع اللہ دردصاحب کو بالترتیب صدر اور سیکرٹری مال نامزد فرمایا۔برمنگھم میں اور اس کے آس پاس بعض اور بھی احمدی احباب قیام پذیر تھے۔ان سے رابطہ کیا گیا اور انہیں جماعت کے قیام کی اطلاع دی گئی۔اس کی خبر روز نامہ الفضل اور بدر قادیان میں چھپی۔۶۶ - ۱۹۶۵ء کے دوران محمد ادریس چغتائی صاحب ساکن ۱۹۸ار السٹر روڈ جنوبی برمنگھم کے مکان پر جماعتی اجلاسات منعقد کئے گئے۔آپ کو جماعت کا جنرل سیکرٹری مقر رکیا گیا تھا۔اور جناب عبدالواسع عدم چغتائی صاحب کو فوٹو گرافر مقرر کیا گیا۔حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے