تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 676 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 676

تاریخ احمدیت۔جلد 22 676 سال 1964ء سال تک مذہبی تعلیم حاصل کر کے شہادت الا جانب کی ڈگری حاصل کی۔یہاں بھی انہوں نے بڑی کاوش سے عربی اور اردو کا علم حاصل کیا۔اور سلسلہ کے بزرگان کی صحبت سے پورا پورا استفادہ کیا۔بالخصوص سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی اور صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پاکیزہ صحبت سے مستفیض ہونے کا بہت اہتمام کرتے رہے۔اور اس قیام ربوہ کو اپنی باقی زندگی میں ہمیشہ محبت اور درد سے یاد کرتے رہے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کو بھی ان سے خاص محبت تھی۔اور ایک دفعہ ان کی تقریرین کر خوشنودی کا اظہار برسر مجلس کرتے ہوئے فرمایا کہ عمری صاحب نے تمام لوگوں کے اس تاثر کو دور کر دیا ہے کہ افریقن عقل و فہم میں کسی سے پیچھے ہیں۔مرحوم خط و کتابت کے ذریعہ ہمیشہ حضور کی خدمت میں اپنے حالات مشورہ اور دعا کے لئے پیش کرتے رہتے۔اسی طرح بزرگ صحابہ سے جن میں سے اکثر فوت ہو چکے ہیں بڑا قرب کا تعلق رکھتے تھے۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی نے ”حیات قدسی میں اپنی قبولیت دعا کا ایک واقعہ بھی درج فرمایا ہے جس کا تعلق محترم عمری صاحب سے تھا۔تبلیغ کے میدان میں مرحوم کی خدمات قابلِ رشک ہیں۔آپ خدا تعالیٰ کے دین کیلئے بڑی غیرت رکھتے تھے اور سلسلہ کے مخالفین اور معاندین بالخصوص پادری صاحبان کے لئے وہ تیغ بر ہنہ کی مانند تھے۔آپ نے اسلام اور احمدیت کے دفاع اور عیسائیت کے خلاف مضامین سینکڑوں کی تعداد میں سواحیلی اور انگریزی میں لکھے جو بڑی کڑی تنقید کے حامل ہونے کے باوجود نہایت معقول اور مدلل ہوتے اور شوق سے پڑھے جاتے تھے۔مقامی پریس میں کوئی بھی اسلام کے خلاف بات چھپتی تو جب تک اس کا جواب نہ لکھ لیتے چین نہ لیتے تھے۔ملکی اخبارات میں ان کے اس قسم کے اکثر خطوط چھپتے رہے اور بعض دفعہ کئی کئی خطوط ایک ہی مضمون پر شائع کرا کے مد مقابل کو لا جواب کر دیتے تھے۔ان کی تحریر و تقریر یکساں زور دار اور مؤثر ہوتی تھی۔ربوہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد جب واپس اپنے ملک میں پہنچے تو سیاسی تحریک آزادی زوروں پر تھی۔قانون کے اندر رہتے ہوئے انہوں نے بھی اس میں مناسب حصہ لیا۔اور اس میدان میں بھی ان کا درجہ کسی سے کم نہ تھا۔بڑے سے بڑے افریقن سیاسی راہنما ان سے مشورہ کرتے اور ان کی رائے کی قدر کرتے تھے۔۱۹۶۰ء میں مرکز کی اجازت سے انہوں نے ملکی خدمت میں اس رنگ میں بھی حصہ لیا کہ وہ