تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 672
تاریخ احمدیت۔جلد 22 672 سال 1964ء غم وحزن اور تعزیت کے جذبات پیش کرنے والوں میں کینیا کے وزیر اعظم مسٹر جو مو کینیاٹا، یوگنڈا کے وزیر اعظم مسٹر ملٹن ابوئے، جمہوریہ ٹا نگانیکا و زنجبار کے نائب صدر اول مسٹر عبید کرومے، نائب صدر دوم مسٹر رشیدی کو اوا، حکومت کے وزراء، زنجبار انقلابی کونسل کے اراکین ، سفراء ، سرکاری عہد یدار اور متعدد احباب ورفقاء شامل تھے۔تدفین پورے فوجی اعزاز کے ساتھ کل بعد از دو پہر TEMEKE کے قبرستان میں عمل میں آئی۔ٹانگانیکا کے بینڈ نے تعزیت کی دُھنیں بجائیں حتی کہ یہ قافلہ جب قبر تک پہنچ گیا تو تیرہ توپوں کی سلامی دی گئی۔ہزار ہا آدمی جو قبرستان کی ملحقہ سڑک پر قطار در قطار کھڑے تھے اب وہ قبرستان میں داخل ہوئے۔اس موقع پر شیخ عنایت اللہ صاحب ( انچارج احمد یہ مشن ٹانگانیکا) نے نماز جنازہ پڑھائی۔جب تابوت کو قبر میں اتارا جار ہا تھا تو تعزیت اور غم و اندوہ کی لئے میں فوجی بگل بجائے گئے۔ازاں بعد پریذیڈنٹ نیریرے نے سب سے پہلے پھول چڑھائے۔ان کے بعد مسٹر کرومے نائب صدر زنجبار، مسٹر جومو کینیاٹا وزیر اعظم کینیا، مسٹر بوٹے وزیر اعظم یوگنڈا اور مسٹر رشیدی کو اوا نائب صدر دوم نے پھول چڑھائے۔پھر مختلف ملکوں کے سفراء کی طرف سے ان کے نمائندوں نے اور فیڈرل ریپبلک جرمنی کے سفیر، دار السلام کے میئر اور زنجبار و ٹا نگانیکا کی فوجوں کے بریگیڈیر اور وزارت ثقافت و تعمیر نو کے پارلیمنٹری سیکرٹری اور محترمہ بی بی ٹی ٹی محمد اور دوسرے معززین نے پھول چڑھائے۔100 اسی طرح نیروبی کے روزنامہ نیشن (NATION) نے اس موقع پر پانچ کالمی فوٹو شائع کیا ہے پھر تدفین کے پروگرام کی تفصیلات شائع کیں۔مبلغین اور دیگر ممتاز احمدیوں کے تاثرات ا۔مولانا شیخ مبارک احمد صاحب رئيس التبلیغ مشرقی افریقہ :- عزیز مکرم شیخ عمری عبیدی صاحب مرحوم و مغفور کی وفات کا سانحہ المناک ہے۔ان کے احمدیت و اسلام سے اخلاص اور اسلام کی ترقی اور بہتری کے لئے مساعی اور ملک وقوم کی بے لوث خدمت کا ریکارڈ ایسا شاندار ہے کہ ان کی جدائی کا ہر ایک کو بہت شدید احساس ہوا ہے۔خاکسار کو شروع سے ان کے با قاعدہ مبلغ بننے تک ان کی دینی تربیت کا موقعہ ملا۔انہوں نے بڑے بڑے قابل احترام سرکاری و قومی مناصب پر فائز ہونے کے بعد سے لے کر وفات کے آخری لمحات تک محبت و