تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 658 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 658

تاریخ احمدیت۔جلد 22 658 سال 1964ء شیخ محمد اسماعیل صاحب آخر میں لکھتے ہیں کہ :۔جو قلق اور رنج مجھے حضرت ممانی جان جیسی فرشتہ سیرت خاتون کی رحلت کا ہے اس کا زخم کبھی مندمل نہیں ہوگا۔ہمیشہ ان کے احسانوں، ان کی عنایتوں اور ان کی شفقتوں کو یاد کروں گا اور خون کے 66 آنسو روؤں گا۔“ مولا نا محمد یعقوب صاحب طاہر انچارج شعبہ زودنویسی ولادت : ۲۷ جنوری ۱۹۰۸ء وفات: ۵/اکتوبر ۱۹۶۴ء آپ کی ولادت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک کے آخری سال ۲۷ /جنوری ۱۹۰۸ء کو اپنے ننھیال موضع گڑھی کالا ضلع سرگودھا میں ہوئی۔اخبار بدر نے ۷ارفروری ۱۹۰۸ء کی اشاعت میں لکھا:۔برادر فخر الدین صاحب ساکن میانی حال ملازم چھاؤنی لاہور کے ہاں خدا تعالیٰ نے فرزند نرینہ عطا فرمایا ہے جس کا نام برادر موصوف نے بشارت اللہ کے مطابق محمد یعقوب رکھا ہے۔اللہ تعالیٰ مولود مسعود کو نیک بناوے اور لمبی عمر صحت و عافیت کے ساتھ عطا کرے“۔مولانا صاحب سلسلہ کے ان خوش نصیب اور نامور خدام میں سے تھے جنہیں خلافت ثانیہ میں ایک طویل عرصے تک سلسلہ کی بیش بہا خدمات کی توفیق ملی۔آپ نے ۱۹۲۹ء میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔۱۹۳۰ء میں آپ روز نامہ الفضل کے اسٹنٹ ایڈیٹر مقرر ہوئے۔اس حیثیت میں آپ نے مسلسل پندرہ سال تک کام کیا۔اس عرصہ میں آپ کے قلم سے اخبار الفضل میں بہت سے بلند پایہ علمی مضامین شائع ہوئے۔۱۹۳۱ء سے آپ نے سید نا حضرت مصلح موعود کے خطبات اور تقاریر کو قلمبند کرنا شروع کر دیا۔اور ۱۹۶۴ء تک چونتیس سال کے طویل عرصہ میں آپ نے حضور کے ہزاروں پُر معارف خطبات، تقاریر مجلس عرفان کے ملفوظات ، قرآن مجید کے درس تفسیر کبیر کے نوٹس اور مجلس مشاورت کی رپورٹیں قلمبند کر کے آنے والی نسلوں کے لئے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا۔جو ایک نا قابل فراموش کارنامہ ہے۔آپ عہد حاضر کے منفرد اور بے مثال زود نو لیس تھے جنہوں نے زود نویسی کے فن کو نقطہ معراج تک پہنچا دیا۔۱۹۴۵ء میں زود نویسی کا مستقل شعبہ قائم ہوا تو حضور نے آپ ہی کو اس شعبہ کا انچارج مقرر فرمایا۔آپ کو اس فن میں اس قدر حیرت انگیز مہارت حاصل تھی کہ حضور نے آپ کے کام کو سراہتے اور سند قبولیت سے نوازتے ہوئے فرمایا:۔