تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 653
تاریخ احمدیت۔جلد 22 653 سال 1964ء وفا کا ذکر کرتے ہوئے محترمہ ظفر جہاں بھٹی صاحبہ آف کراچی بیان کرتی ہیں کہ :۔عاجزه نومبر ۱۹۴۸ء میں کراچی آئی اور تھیو سافیکل ہال بندر روڈ کے قریب ہی ایک مکان میں رہائش پذیر ہوئی۔دو تین روز بعد خضر سلطانہ جو چوتھی منزل پر مقیم تھیں ملنے آئیں اور اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ وہ محمد یونس صاحب (وفات یافتہ ) کی اہلیہ ہیں جو محترم با بونذیر احمد صاحب ( وفات یافتہ ) امیر جماعت احمد یہ دہلی کے برادر نسبتی تھے اور وہ ۱۹۴۷ء کے فسادات میں غالبا اللہ کی راہ میں جان دے گئے۔غالبا یوں کہ کسی کام سے باہر گئے تھے اور واپس نہ آئے باوجو د تلاش کے کچھ پتہ نہ لگ سکا تو قیاس کر لیا گیا ہے کہ شہید ہو گئے۔وہ خود چند ماہ پیشتر اپنی والدہ اور بھائیوں کے ہمراہ پاکستان آگئی تھیں۔انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ اپنے خاندان کی اکیلی احمدی خاتون ہیں۔جبکہ ان کی والدہ اور بھائی حد درجہ مخالف ہیں۔شوہر بھی احمدی تھے مگر ان کی وفات کے بعد وہ تنہا رہ گئی تھیں۔فطری طور پر مجھ سے مل کر انہیں بہت مسرت ہوئی۔میں نے محسوس کیا کہ وہ بہت سادہ اور حلیم ہیں۔انہوں نے میرے بچوں کو قرآن شریف پڑھانے کی پیشکش کی جو میں نے فوراً قبول کر لی۔پھر جتنا عرصہ میں وہاں رہی وہ یہ خدمت بخوشی انجام دیتی رہیں۔چھ ماہ بعد میں نے رہائش گاہ تبدیل کر لی مگر ہماری محبتیں اور اپنائیت قائم رہی اور باوجود کمزوری صحت کے مجھ سے ملنے ہر تیسرے چوتھے ماہ پابندی سے آتی رہیں۔اور اپنے میاں کی قبولیت احمدیت کا واقعہ سناتے ہوئے بہت جذباتی ہو جاتیں انہوں نے مجھے بتایا کہ ہمارے گھر میں چونکہ ہم دونوں کے علاوہ کوئی احمدیت سے واقف نہ تھا اس لئے ہم نے اپنے جانماز تر کر دئے اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کی کتابیں دو دو تین تین لالٹین جلا کر پڑھا کرتے۔یہاں تک کہ ہم نے حق کو پالیا اور دسمبر ۱۹۲۸ء میں با قاعدہ بیعت کر لی۔آپ اپنے حال میں بے حد قانع اور مطمئن تھیں اور خدا کے سوا کسی پر انحصار کی قائل نہ تھیں۔دعوت الی اللہ کا بے حد شوق تھا۔اللہ تعالیٰ نے اولاد جیسی نعمت سے محروم رکھا مگر کبھی شکوہ زبان پر نہ لائیں۔نہایت دعا گو تھیں میری درخواست پر میرے لئے اولا دنرینہ کے لئے دعا کی اور خواب کی بناء پر دو بیٹوں کی خوشخبری دی خدا تعالیٰ نے مجھے جڑواں بیٹوں سے نوازا۔۱۹۵۳ء میں آپ کے بھائیوں نے کاروبار میں لگانے کے لئے آپ کا زیور گروی رکھ کر روپیہ حاصل کیا انہوں نے زیور تو دے دیا مگر ہمہ وقت یہ احساس رہتا کہ زیور کسی دینی مصرف میں خرچ ہوتا۔۱۹۶۲ء میں بہت منت سماجت سے زیور وا پس ملا تو بہت دعا کرتیں کہ اس کا بہترین مصرف نکل آئے۔خدا تعالیٰ نے ان کی رہنمائی کی اور خیال آیا کہ دارالرحمت