تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 652 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 652

تاریخ احمدیت۔جلد 22 652 سال 1964ء صاحب کی زندگی کا بہت بڑا حصہ جاوا، سوماٹر اوغیرہ میں تبلیغ میں گزرا ہے اور اب جنگ کی وجہ سے چونکہ ڈاک وغیرہ کا کوئی سلسلہ نہیں رہا اور یہ جزائر جاپانیوں کے قبضہ میں چلے گئے ہیں وہ عدم پتہ ہیں۔ان کو نہ کوئی خرچ بھیجا جا سکتا ہے اور نہ کوئی ان کی خبر آسکتی ہے۔بہن عائشہ صاحبہ نے جوانی کی عمر کا بہترین حصہ نہایت پاکبازی کے ساتھ گزارا ہے اور اپنے خاوند کو خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کیلئے ہمیشہ بہادری اور وفاداری کے ساتھ بھیجا۔اس کے سوا بھی بہن صاحبہ سلسلہ کے کاموں میں بڑی دلچسپی لیتی ہیں۔چندوں کا جمع کرنا اور سلسلہ کی تحریکوں میں حصہ لینا ان کا خاص خاصہ ہے۔سیٹھ عبدالحئی صاحب یادگیری ولادت: ۱۹۰۰ ء وفات: ۲/اگست ۱۹۶۴ء آپ تقریباً ۱۹۰۰ء میں پیدا ہوئے۔الحاج حضرت سیٹھ حسن صاحب کے فرزند اکبر تھے۔مرحوم اپنی پوری زندگی میں اپنے مخلص ترین باپ کے نقوش قدم پر گامزن رہے اور جانشینی کا حق ادا کر دیا۔اور یہی رنگ اپنی اولاد میں منتقل کر دیا۔جناب سیٹھ صاحب زندگی بھر جماعت احمد یہ یاد گیر کے امیر رہے۔جو جنوبی ہند کی بڑی جماعتوں میں شمار ہوتی ہے۔آپ کی قیادت میں جماعت یاد گیر نے ہر اعتبار سے ترقی کی اور آپ نے مسلسل توجہ، کوشش و نگرانی سے جماعت یاد گیر کا دینی ماحول قابل رشک بنا دیا۔آپ نے یاد گیر اور قریبی غریب جماعتوں میں مرکزی نمونہ کے مطابق سالانہ جلسوں کے انعقاد کا سلسلہ کمال استقلال سے جاری رکھا۔آپ نہایت عمدہ لیکچرار تھے آپ کا خطاب بہت مؤثر ، عام فہم اور دلنشین ہوتا تھا۔آپ کو صدرانجمن احمد یہ قادیان کے ممبر ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔سیٹھ صاحب مرحوم اپنی نیکیوں ،تقویٰ اور مشفقانہ مہمان نوازی کے باعث نہ صرف اپنے خاندان اور جماعت بلکہ اغیار میں بھی مقبول اور ہر دلعزیز وجود تھے۔خضر سلطانہ صاحبہ اہلیہ بابومحمد یونس صاحب دہلوی بیعت: دسمبر ۱۹۲۸ء تاریخ وفات : ۲۲ جولائی ۱۹۶۴ء آپ ایک نہایت مخلص احمدی خاتون تھیں جنہوں نے ربوہ میں واقع اپنا مکان وقف کر دیا اور اس کے ایک حصہ کو مسجد کے لئے مخصوص کر دیا۔آپ کی وفات کے بعد اس حصے پر مسجد بنائی گئی جو مسجد خضر سلطانہ کے نام سے معروف ہے اور ربوہ ریلوے اسٹیشن کے سامنے واقع ہے۔آپ کے اخلاص و