تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 651
تاریخ احمدیت۔جلد 22 651 سال 1964ء 93 جماعتہائے احمدیہ کشمیر منتخب ہوئے اور چار سال تک امارت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔قیام پاکستان کے بعد آپ آزاد کشمیر حکومت کے پبلسٹی آفیسر مقرر کئے گئے۔سردار محمد ابراہیم خان صاحب صدر آزاد جموں و کشمیر اور خواجہ غلام دین صاحب وانی ہوم منسٹر نے آپ کی ملتی خدمات کو سراہا۔آپ ۴۸۔۱۹۴۷ء میں روز نامہ الفضل قادیان و لاہور کے مینیجر بھی رہے۔تقسیم ہند کے بعد 8MB خوشاب میں آگئے۔آپ موصی تھے لیکن آپ کی تدفین خوشاب میں ہی ہوئی۔آپ کے بھتیجے مکرم منیر احمد فرخ صاحب امیر ضلع اسلام آباد ہیں۔محترمہ عائشہ بیگم صاحبہ اہلیہ حضرت مولانا رحمت علی صاحب 94 ولادت : ۱۹۰۱ء۔بیعت : پیدائشی احمدی۔وفات: ۲۱ جولائی ۱۹۶۴ء۔آپ خاندان حضرت مسیح پاک میں خالہ عائشہ کے نام سے معروف تھیں۔مولانا رحمت علی صاحب سابق مبلغ انڈونیشیا کی بیوی ، حضرت بابا محمد حسن صاحب واعظ ( جن کو اللہ تعالیٰ نے سب سے اول وصیت کرنے کی سعادت بخشی اور جن کا وصیت نمبرا تھا) کی بہو اور حضرت منشی عبدالعزیز صاحب اوجلوی (جن کا شمار ۳۱۳ اصحاب میں ہے) کی صاحبزادی اور حضرت مولوی محمد الدین صاحب سابق مبلغ لندن وامریکہ و ناظر تعلیم کی نسبتی بہن تھیں۔مرحومہ کے خاوند اپنی زندگی کے قریباً نصف سے زیادہ عرصہ تک اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے اپنے گھر سے باہر خدمت دین بجالاتے رہے۔اس لمبے عرصہ کے دوران میں مرحومہ نے نہایت صبر، استقلال اور عفت شعاری سے اپنی زندگی بسر کی۔اور ہر وقت خدمت دین کے لئے اپنے آپ کو محو رکھا۔اکثر بچوں اور عورتوں کو قرآن کریم پڑھانا، لجنہ اماءاللہ کے زیر نگرانی بہنوں سے چندوں کی وصولی اور دوسرے نیک کاموں میں مصروف رہنا ان کی عادت ثانیہ بن چکی تھی۔خدمت گزاری کا پہلو بے حد نمایاں تھا جس کے ذریعے مخلوق خدا کی ہمدردی میں اکثر منہمک رہتی تھیں۔دوسرے ناداروں کی خفیہ مدد کے لئے تیار۔دعا ئیں کرنے میں خاص شغف تھا۔شیخ محمود احمد صاحب عرفانی ایڈیٹر الحکم نے ۱۹۴۲ء میں اپنی مشہور کتاب ” مرکز احمدیت قادیان میں احمدی خواتین کی قربانیاں“ کے زیر عنوان صفحہ ۳۹۸ پر آپ کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے لکھا:۔”جناب مولوی رحمت علی صاحب مبلغ جاوا ، سوماٹرا کی اہلیہ ہیں اور منشی عبدالعزیز صاحب پٹواری ایک پرانے صحابی کی بیٹی ہیں اور بابا محمد حسن صاحب واعظ ایک پرانے صحابی کی بہو ہیں۔مولوی 95