تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 633 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 633

تاریخ احمدیت۔جلد 22 633 سال 1964ء قادیان تشریف لے گئے اور مدت تک احمد دین صاحب کپور تھلوی کے ہاں قیام کیا۔۱۹۱۴ء میں آپ جماعت احمد یہ مندرانی کے سیکرٹری مال تھے۔خلافت ثانیہ کے قیام پر آپ نے اپنے استاد فتح محمد خان صاحب اور جماعت سے مشورہ کیا۔پھر تمام دوستوں کو اکٹھا کر کے حضرت خلیفہ ثانی کی خدمت اقدس میں بیعت کا خط لکھ دیا اور دسمبر ۱۹۱۴ء کے جلسہ پر پندرہ افراد کے ساتھ حضرت خلیفہ ثانی کے دستِ مبارک پر بیعت کی۔پھر جلسہ ۱۹۳۲ء پر قادیان گئے اور جنوری ۱۹۳۳ء سے ۱۴ اپریل ۱۹۳۴ء تک حضرت اماں جان کے دروازے پر دربان رہے۔ازاں بعد جنوری ۱۹۳۷ء سے دسمبر ۱۹۳۸ء تک حضرت نواب محمد علی خان صاحب آف مالیر کوٹلہ کی کوٹھی پر دربانی کا موقعہ ملا۔آخری بار جلسہ سالانہ ۱۹۴۰ء پر قادیان تشریف لے گئے۔دعاؤں میں بڑا شغف رکھتے تھے۔صاحب رویا تھے۔۱۹۵۶ء سے پہلے اکثر خود امامت کراتے رہے۔آپ نے اپنے پیچھے تین لڑکے اور ایک لڑکی بطور یادگار چھوڑے۔اولاد: اقبال احمد خان صاحب ( متوفی ۱۹۹۰ ء ) - عبدالحی خان صاحب جمیل احمد خان صاحب - 1 حضرت مولوی محمد عثمان صاحب امیر جماعت احمدیہ ڈیرہ غازی خان ولادت: قریباً ۱۸۸۳ء بیعت تحریری: ۱۹۰۱ء۔بیعت دستی: دسمبر ۱۹۰۴ء وفات: ۱۵ دسمبر ۱۹۶۴ء- 74 70 حضرت مولوی محمد عثمان صاحب کی ذات یا قومیت جثت تصمیم تھی۔اور اسی کا اندارج آپ کے ملا زمت کے کاغذات میں ہے۔آپ تو نسہ کے ایک معزز علمی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔آپ کے والد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہمارا خاندان تمیم انصاری کی اولاد سے تعلق رکھتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور مدینہ کے رہنے والے تھے۔نامعلوم کس زمانہ سے آپ کے بزرگ مدینہ سے اس برصغیر میں آئے مگر قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بغرض تبلیغ اسلام یا شوق جہاد کے سبب اپنے وطن سے ہندوستان کی طرف آئے ہوں گے۔آپ کو احمدیت کا پیغام پہلی بار جولائی ۱۹۰۱ء میں پہنچا جبکہ آپ کی تقرری ڈیرہ غازی خان کی برانچ پرائمری سکول نمبر ۲ میں ہوئی اور آپ اپنے بعض ہم وطن و ہم پیشہ اصحاب کے ساتھ رہنے لگے۔یہ دوست اکثر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کا مطالعہ کیا کرتے تھے اور اب تک کسی نے بیعت نہیں کی تھی ان میں سے بعض کے نام یہ تھے۔مولوی عبدالرحمن ورنیکلر ٹیچر ساکن جھنگ تحصیل تونسہ شریف۔مولوی امام بخش صاحب کھوکھر ورنیکلر ٹیچر ساکن تونسہ شریف خاص۔ان کے علاوہ اخوند محمد