تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 629
تاریخ احمدیت۔جلد 22 629 سال 1964ء حضرت غلام فاطمہ صاحبہ زوجہ حضرت ڈاکٹر فیض علی صابر صاحب بیعت : ۱۹۰۰ء۔وفات: ۲ دسمبر ۱۹۶۴ء حضرت غلام فاطمہ صاحبہ اور آپ کے خاوند حضرت ڈاکٹر فیض علی صاحب صابر دونوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے تھے۔آپ کو خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خواتین مبارکہ سے دلی لگاؤ اور تعلق تھا۔آپ ان صحابیات میں شامل تھیں جنہوں نے لوائے احمدیت کے لئے سوت کا تا تھا۔64 65 مرحومہ بہت متقی پرہیز گار، تہجد گزار۔مہمان نواز اور غرباء کے ساتھ حسن سلوک کرنے والی خاتون تھیں۔مکرم سردار رحمت اللہ صاحب نے اپنی والدہ محترمہ غلام فاطمہ صاحبہ کا ذکر خیر کرتے ہوئے تحریر کیا کہ آپ ۱۹۰۳ء میں شادی کے بعد جہلم سے قادیان آئیں اور ایک لمبا عرصہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر کے گول کمرہ میں رہائش پذیر رہیں۔جہاں پر انہیں حضرت اماں جان اور حضور علیہ السلام کی خدمت کا بھی کافی موقع ملا۔۱۹۰۵ء میں زلزلہ کے ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مع خاندان اور اپنے خدام کے ساتھ باغ میں قیام فرمایا تو والد صاحب اور والدہ صاحبہ بھی حضور علیہ السلام کے ساتھ تھیں۔حضور علیہ السلام نے بچہ کی متوقع پیدائش کے وقت والد صاحب اور والدہ صاحبہ کو شہر والے گھر میں رہائش کا ارشاد فرمایا جہاں ہمارے بڑے بھائی ڈاکٹر احسان علی صاحب کی پیدائش ہوئی۔حضور علیہ السلام نے خود ہی احسان علی نام تجویز فرمایا۔نیز فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا بھی نام ہے۔غلام فاطمہ صاحبہ کو حضرت اماں جان سے خاص انس اور محبت تھی اور حضرت اماں جان بھی ان پر شفقت فرماتیں اور انہیں پاس بٹھاتی تھیں۔آپ حضرت ام ناصر صاحبہ کی اس وقت کے رواج کے مطابق ڈوپٹہ بدل بہن بنی ہوئی تھیں اور ہمیشہ حضرت ام ناصر صاحبہ انہیں بہن جی کہ کر مخاطب کرتی تھیں اس وجہ سے خاندان کے دوسرے افراد بھی آپ کو بہن جی ہی کہا کرتے تھے۔حضرت مولوی عبدالحق صاحب بد و ملہوی ولادت: ۱۸۷۵ء۔بیعت و زیارت : ۱۸۹۳ء۔وفات:ے دسمبر ۱۹۶۴ء بعمر نوے سال۔بدوملہی کا قصبہ بیسویں صدی کے آغاز سے ہی مسلمانوں، سناتن دھرمیوں ، جینیوں، آریہ