تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 599
تاریخ احمدیت۔جلد 22 599 سال 1964ء مولوی صاحب موصوف متصف ہیں۔مولوی صاحب اپریل ۱۹۲۳ء سے علاقہ سندھ میں کام کر رہے ہیں اور اس وقت سے اب تک انہوں نے اپنے مفوضہ کام کو نہایت دیانتداری سے نبھایا ہے اور کوئی ایسی بات پیدا نہیں ہونے دی جس سے ان پر کسی قسم کی شکایت پیدا ہونے کا احتمال بھی ہوا ہو۔علاقہ سندھ کی تبلیغ ان کے سپرد کی گئی تھی اور انہوں نے اس مقدس کام کو اس جانفشانی اور دیانتداری کے ساتھ نبھایا ہے کہ مجھے بہت ہی کم اور شاذ و نادر کے طور پر انہیں ہدایات دینا پڑی ہیں۔اکثر انہوں نے علاقہ کی جماعتوں اور احمدی افراد کا خود ہی خیال رکھا ہے۔اور وقتاً فوقتاً ہر ایک جماعت میں جلد از جلد پہنچ کر ان کی تربیت اور تبلیغ اپنا فرض سمجھا ہے اور اس علاقہ سے کبھی کوئی شکایت اس رنگ میں دفتر میں نہیں پہنچی کہ مولوی صاحب فلاں فلاں جماعت کی طرف تو بار بار گئے ہیں اور ہماری طرف نہیں آئے۔بلکہ باری باری سب کا حق ادا کیا۔اور میں سمجھتا ہوں کہ دیانت اور امانت کا جو بوجھ ان کے کندھوں پر رکھ کر انہیں بھیجا گیا تھا اس کو انہوں نے ہمت واستقلال سے اٹھائے رکھا ہے۔بعض چھوٹے چھوٹے واقعات متقی انسان کا پتہ دیئے بغیر نہیں رہتے۔چند ماہ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے مجھے لکھا کہ کوئٹہ کے دوست خواہش کرتے ہیں کہ میں چند دن کے لئے ان کے پاس جاؤں اور چونکہ کوئٹہ میرے حلقہ سے باہر ہے اس لئے اجازت طلب کرتا ہوں۔میں نے بعض وجوہ سے اجازت نہ دی۔کسی دوست نے ان کو یہاں سے لکھ دیا کہ اگر آپ وہاں جانا چاہتے ہیں تو کوئٹہ والوں کو لکھیں کہ وہ دفتر میں درخواست بھیجیں۔اس کا جواب مولوی صاحب نے اس دوست کو جیسا کہ اس نے خود ہی بیان کیا یہ دیا کہ مجھے کوئی نفسانی خواہش تو وہاں کھینچ نہیں رہی کہ میں اتنی مصیبت میں پڑوں۔خدا کا کام کرنا ہے جہاں وہ چاہے اپنی رضا کے ماتحت لے لے۔کوئٹہ والوں کو میں نے یہی لکھ دیا ہے کہ مرکز کی طرف سے اجازت نہیں۔اس سے زیادہ یہ لکھنا کہ تم خود وہاں درخواست کرو میں نے تقویٰ کے خلاف سمجھا ہے۔کیونکہ اس سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ مجھے خود وہاں جانے کی آرزو ہے۔یہ چھوٹا سا واقعہ ہے مگر خشیة اللہ کے علاوہ مرکزی احکامات کی اطاعت بھی ظاہر کرتا ہے۔مرکزی دفتر کے احکامات کی اطاعت اور اس سے تعاون اور وفاداری کا اظہار بھی انہوں نے جس عملی رنگ میں کیا ہے وہ میرے لئے کم خوش کن نہیں ہے۔دفتر کا کوئی حکم ان کے نام ایسا نہیں پہنچا جس کی انہوں نے اطاعت نہ کی ہو۔علاقہ سے باہر اپنی نقل و حرکت بجز صریح اجازت کے ہر گز نہیں کی حتی کہ اپنی لائق اور قابل بیٹی کی مرض الموت میں وہ کراچی میں تھے۔بعض پرائیویٹ خطوط ان کو