تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 590 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 590

تاریخ احمدیت۔جلد 22 590 سال 1964ء چھاؤنی کے بہت سے کلرک اور دوسرے لوگ جلسہ سننے کے بعد بتاتے تھے کہ اسلام کی عزت حضرت مرزا صاحب نے رکھ لی ہے۔اس پر آپ کا حسن ظن بڑھ گیا اور حضور کی کتابیں وغیرہ دیکھنی شروع کیں۔آخر دعا کی۔جس پر آپ کو اللہ تعالیٰ نے تین خواب دکھلائے اور حضرت اقدس کی سچائی آپ پر کھل گئی اور آپ نے بیعت کا خط لکھ دیا۔قبول احمدیت پر آپ کے رشتہ داروں میں ایک شور اٹھا۔انہوں نے آپ کا بائیکاٹ کر دیا اور آپ کا ٹرنک باہر پھینک کر گھر سے نکال دیا۔آپ اسی وقت ایک احمدی دوست محمد حسین صاحب کے پاس گئے۔جو اسی وقت آئے اور آپ کا سامان وغیرہ اٹھا کر لے گئے۔یہ دوست میڈیکل ڈپو میں تھے اور انہی کے ذریعے آپ داخل احمدیت ہوئے۔آپ ایک دکان کرایہ پر لے کر رہنے لگے۔جب آپ پہلی دفعہ قادیان تشریف لے گئے تو حضرت اقدس بڑی شفقت و محبت سے پیش آئے اور دریافت فرمایا قاضی صاحب آپ کتنی رخصت لے کر آئے ہیں۔آپ نے عرض کیا۔بڑی مشکل سے تین دن کی رخصت ملی ہے۔ایک دن آنے کا ، ایک دن جانے کا اور آج حضور کی خدمت میں رہنے کا۔آپ فرمانے لگے آمدن بارادت رفتن با جازت کے مقولے پر تو عمل کیا ہوتا۔آپ فرماتے ہیں:۔’ ایک دفعہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام جہلم کو کرم دین کے مقدمہ کے لئے تشریف لے جا رہے تھے۔میں ان دنوں میاں میر چھاؤنی میں ملازم تھا۔مجھے جب پتہ لگا کہ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام فلاں ٹرین سے تشریف لا رہے ہیں تو ہم اسٹیشن پر جا پہنچے۔گاڑی آئی۔حضرت اقدس جس ڈبہ میں سوار تھے ہم بھی چند لوگ اس ڈبہ میں بیٹھ گئے اور حضور سے ملاقات کی۔مفتی محمد صادق صاحب نے میرا تعارف کرایا۔حضرت اقدس نے فرمایا میں قاضی صاحب کو جانتا ہوں۔یہ ہمارے پرانے دوست ہیں۔اور حضور نے جو مجھ سے پہلا سوال کیا وہ یہ تھا کہ اب آپ کے رشتہ داروں کا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کیا حضور اب تو ان کی مخالفت انتہا کو پہنچ گئی ہے۔فرمانے لگے آپ گھبرائیں نہیں۔ایک زمانہ آنے والا ہے کہ یہ سب لوگ آپ کے قدموں میں گریں گے۔پھر مجھے از راہ شفقت اپنے پاس ہی بٹھا لیا اور ہم سب ساتھ ہی لاہور پہنچ گئے۔میاں چراغ دین صاحب کے مکان پر تمام آنیوالے دوست فروکش ہوئے اور میں بھی وہاں ہی حضور کے پاس رہا۔رات کو میں نے مفتی صاحب سے عرض کیا کہ میرا بستر حضرت صاحب کے بالکل