تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 589
تاریخ احمدیت۔جلد 22 589 سال 1964ء حضرت سید محمدی بیگم صاحبہ اہلیہ سید محمد اشرف صاحب مرحوم ولادت: قریباً ۱۸۷۹ء۔بیعت: (سن کی تعیین نہیں ہو سکی) وفات : ۶ فروری ۱۹۶۴ء۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحابیہ تھیں۔آپ بڑی خوبیوں کی مالک تھیں۔بہت نیک، دین سے محبت کرنے والی، ہمدرد اور خدا ترس تھیں۔مہمان نوازی آپ کا خاص وصف تھا۔پردے کی سختی سے پابند تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے گہری عقیدت و محبت تھی ان کے لئے ہمیشہ التزام سے دعائیں کرتی تھیں۔جلسہ کے موقعہ پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے گھر میں قیام پذیر ہوتی تھیں۔مرحومہ اپنے خاندان میں سب سے پہلے احمدی ہوئیں جبکہ اس وقت ان کے خاوند بھی احمدی نہ تھے۔قبول احمدیت کے بعد بہت تکلیفیں اٹھا ئیں مگر اُف تک نہیں کیا۔چندوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔نماز تہجد اور اشراق با قاعدہ پڑھتی تھیں۔محلے کے بچوں اور اپنے نوکروں کو بڑے ذوق و شوق سے قرآن کریم پڑھایا کرتی تھیں۔حضرت خان امیر اللہ خان اسماعیلیہ ضلع مردان ولادت: ۱۸۷۹ء بیعت : ۱۹۰۳ء۔وفات: ۹فروری ۱۹۶۴ء 3 صاحب کشف و الہام، عابد و زاہد بزرگ تھے۔سلسلہ کے لئے بے پناہ غیرت رکھتے تھے۔احمدیت کی خاطر ہر مخالف کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔خلیق اور مہمان نواز تھے اور باوجود گاؤں کے خان ہونے کے نہایت سادہ اور منکسر المزاج تھے۔اسماعیلیہ میں انہی کے وجود سے احمد بیت قائم ہوئی مگر وہ خود حضرت قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری کی تبلیغ سے احمدی ہوئے۔حضرت قاضی سید حبیب اللہ شاہ صاحب آف شاہدرہ (لاہور) ولادت: ۱۸۷۱ء۔بیعت : ۱۹۰۰ء۔وفات: ۴ مارچ ۱۹۶۴ء بعمر ۹۳ سال - 10 آپ مستجاب الدعوات و صاحب رؤیا و کشوف بزرگ تھے۔آپ کی تبلیغ سے کئی جماعتیں قائم ہوئیں۔آپ کی روایات الحکم ۱۴ اکتو بر ۱۹۳۶ء میں شائع شدہ ہیں اور بہت ہی ایمان افروز ہیں۔ان روایات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عقیدت و محبت کا آغاز ۱۸۹۶ء کے جلسہ اعظم مذاہب لا ہور کی روداد سے ہوا جو روزانہ انہیں ملتی اور وہ اسے پڑھتے تھے۔