تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 43 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 43

تاریخ احمدیت۔جلد 22 43 سال 1963ء پود کو عام عیسائیت کا درس دیا جاتا اور اُن کی معصوم روحوں اور نو خیز دماغ کو نصرانیت کے ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔وہ بچے جو ان گھرانوں میں پیدا ہوئے جن میں صرف ایک خدا کا چرچا اور تذکرہ ہے۔انہیں اب دن دیہاڑے تین خداذہن نشین کرائے جاتے ہیں۔عوام اور خواص ایک دفعہ نہیں ہزار دفعہ چیخ چکے لیکن ہماری عالی ظرف و بے نیاز حکومت ذرہ بھر ٹس سے مس نہیں ہوئی اور اس ہفتہ تو اُس نے ایک ایسا حکم دیا ہے جس کی حیثیت کو اصابت و بصیرت کے ترازو میں تولنے کے بعد قلب و نظر کا یہ شبہ قوی تر ہو جاتا ہے کہ واقعی یہ سب کچھ کہنے اور بتانے کے لئے ہی ہے۔عملاً ہماری حکومتیں اسلام کے نام پر صرف یہودیت و نصرانیت ہی کی تخم ریزی کی نگہداری فرمارہی ہیں۔یہ حکم ایک ایسے کتابچہ کی ضبطی سے متعلق ہے جو ایک دردمند نقیب و داعی اسلام نے اپنے دور کے ایک عیسائی پر چارک سراج الدین نامی کے چار سوالوں کے جواب میں جون ۱۸۹۷ء میں لکھا تھا۔جب برصغیر پاک و ہند پر ایک نصرانی قوم (انگریز) کی حکومت تھی۔اور جو اس وقت اپنی حکومت کی جڑوں کو دلوں اور روحوں میں گہرا گاڑنے کے لئے مسلمانوں پر ہر قسم کی یلغار روا جانتی تھی۔اگر ایک طرف مسلمانوں کو اعلیٰ و ادنی سرکاری ملازمتوں سے دور رکھ کر اور انہیں حکومتی مراعات سے محروم کر کے اُن میں احساس کمتری پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔تو دوسری طرف اُن کے عبد اللہ آتھم ، ٹھاکر داس ، بی ایچ راوز ، کمین یل، ریورنڈ نمبکن ایسے متعصب مصنف آئینہ اسلام“ ا مسیحیت والا سلام ، اسمائے الہی“۔”بحث مابین توحید و تثلیث“۔” دینِ اسلام اور حضرت محمد “ ایسی کتب لکھ کر اسلام کے عقائد کا مذاق اُڑانے اور اُس کی آفاقی تعلیم کی تضحیک میں مصروف تھے اور اس کے ساتھ ساتھ در پردہ عیسائیت قبول کرنے کے لالچ پر حکومتی قرب کا من وسلویٰ بھی عام تھا۔اسلام کے ہر بچے جاں شار کا نام اس کے تھانوں کی گھناؤنی کتب کی زینت تھا۔یہ چاروں سوال کفارہ مسیح ناصری کی صلیبی موت ، عیسائیوں کے تین خداؤں کی حقیقت سے متعلق تھے جن کے جواب میں اسلام کے جاں نثار مصنف نے بہ دلائل ثابت کیا کہ۔اول قرآن اور ایک خدا کی ماننے والی قوم مسلمان جس ناصری نبی (عیسی ) کو جانتی اور مانتی ہے۔وہ ہرگز ( یہودیوں کے دعوے کے مطابق ) لعنت کی موت نہیں مرے۔وہ نہ قتل ہوئے اور نہ صلیب پر ہلاک کئے گئے اور عیسائی قوم جو اپنے گناہوں کی پردہ پوشی کے لئے کفارہ کا مسئلہ گھڑے بیٹھی ہے۔اُس سے قرآن والے حضرت عیسی" کے نام، مقام اور مشن سب کی تو ہین ہوتی ہے۔سچ تو