تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 554
تاریخ احمدیت۔جلد 22 554 سال 1964ء ما حب ایس پی بہار اور مولانابی عبداللہ صاحب مبلغ کیرالہ نے اپنے خیالات کا اظہار فرمایا۔جلسہ میں دنیا کی مختلف چھتیں زبانوں میں تقاریر جلسہ سالانہ قادیان۱۹۶۴ء کے موقعہ پر ۲۱ دسمبر بعد نماز فجر مسجد مبارک میں ایک نہایت دلچسپ اور ایمان افروز پروگرام پر مشتمل اجلاس منعقد ہوا۔اس ایمان افروز اجلاس کی صدارت کے فرائض مولا نانسیم سیفی صاحب مبلغ مغربی افریقہ نے سرانجام دیئے۔مقررین حضرات میں سے اکثر وہ احباب تھے جو جماعت احمدیہ کی طرف سے آج دنیا کے مختلف ممالک میں تبلیغ اسلام کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔اور کچھ وہ احباب بھی تھے جو افریقہ جیسے دور افتادہ براعظم سے سفر کر کے محض قادیان کی زیارت کرنے کیلئے تشریف لائے تھے اور مسیح محمدی کے الہام وَيَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ کے زندہ گواہ تھے۔اس پروگرام کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی معرکة الآراء تصنیف ” تذكرة الشهادتين سے ذیل کا اقتباس منتخب کیا گیا تھا جو بجائے خود ایک پیشگوئی پر مشتمل ہے۔جس پر مندرجہ ذیل پروگرام کے مطابق مقررین حضرات نے تقاریر کیں۔یعنی اپنی اپنی زبان میں اس کا ترجمہ کیا۔وہ اقتباس یہ ہے:۔”اے تمام لوگو! سن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا۔اور محبت اور برہان کے رُو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہوگا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک کو جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نامرا در کھے گا۔اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔آج ہم اس روحانی کیف و کم کا اندازہ نہ لگا سکیں گے جو اُس وقت اس مجلس پر طاری تھا جب دنیا کی مختلف زبانوں میں اس روح پرور اقتباس کا ترجمہ سنایا جا رہا تھا۔بلکہ یوں سمجھئے کہ دنیا کے مختلف ممالک تسلیم و اعتراف کر رہے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مندرجہ بالا پیشگوئی پوری ہوئی کہ:۔وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا“۔الحمد للہ 124