تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 541 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 541

تاریخ احمدیت۔جلد 22 541 سال 1964ء ان چھوٹی چھوٹی کتابوں کے علاوہ بڑی کتابیں بھی انگریزی زبان میں جیسے قرآن شریف، لائف آف محمد، ٹیچنگ آف اسلام، احمدیت یعنی حقیقی اسلام ہزاروں کی تعداد میں بھیجی گئیں۔تری چری کیرالہ کے ایک دوست نے بھی ایک اشتہار پانچ ہزار کی تعداد میں بھیجے۔اور ”ربوہ“ سے بھی بعض قیمتی کتب اس اجتماع کے لئے آئیں۔نظارت تبلیغ قادیان نے اس تبلیغی مہم کی ذمہ داری میرے سپرد کی تھی۔میں نے یہاں کے حالات دیکھ کر محسوس کیا کہ جماعت احمدیہ بمبئی تنہا اتنے وسیع پیمانے پر ان کتابوں کی مناسب رنگ میں اشاعت نہیں کر سکتی۔اس لئے جنوبی ہند کی بعض جماعتوں کو اپنی مدد کے لئے بلایا۔حیدر آباد اور یاد گیر جو قریب کی جماعتیں ہیں ان کے امراء کو تحریک کی کہ وہ ان نادر دنوں کے لئے اپنے خدام بھی بمبئی بھیجیں اور گاڑیاں بھی۔نظارت دعوت وتبلیغ قادیان نے بھی تحریک کی۔بدر میں بھی اعلان کیا گیا۔الحمد للہ کہ ان جماعتوں نے اس تحریک پر لبیک کہی۔اور حیدرآباد و یاد گیر سے ۴۰ خدام مکرم سیٹھ محمد معین الدین صاحب امیر جماعت حیدر آباد و سکندر آباد کی سرکردگی میں دو جیپ گاڑیوں کے ساتھ بمبئی پہنچ گئے۔مدراس سے مکرم محمد کریم اللہ صاحب ایڈیٹر آزاد نوجوان بھی آگئے۔ان احباب کے علاوہ مکرم حکیم محمد الدین صاحب مبلغ انچارج میسور اسٹیٹ، مکرم مولوی محمد عمر صاحب مبلغ انچارج آندھراپردیش اور مکرم مولوی فیض احمد صاحب مبلغ یاد گیر بھی آگئے۔اس سے پیشتر کہ ۲۸ نومبر کی تاریخ آتی اور میں تبلیغی جد و جہد کے آغاز کا اعلان کرتا۔پولیس کے آفیسروں کو اس سکیم کی اطلاع دی۔انہیں دار التبلیغ بلایا۔وہ آئے۔کتا بیں دیکھیں اور ایک ایک سیٹ اپنے ساتھ لے گئے۔پھر میں خود مسٹر مجید اللہ پولیس کمشنر سے ملا اور ان کو بھی اس تجویز سے مطلع کیا۔۲۸ نومبر کو میں نے اپنی تبلیغی جدو جہد کا آغاز کر دیا۔احباب جماعت تھیلیوں میں کتابیں لے لے کے جلسہ گاہ کی طرف چلے۔میں نے اس وقت ان تمام مجاہدوں کو تاکید کر دی کہ پولیس کے احکام کی فور انتعمیل کریں اگر کوئی شخص کتاب لینے سے انکار کرے تو برا نہ منائیں۔اور اگر کوئی کتاب کے ساتھ بدسلوکی کرے تو اس کا بھی شکریہ ادا کریں۔اگر کوئی کتاب پھاڑ کر پھینک دے تو حتی الامکان وہ ٹکڑے اٹھا لیں۔اور کتا بیں تعلیم یافتہ اشخاص کو ادب و احترام سے پیش کریں۔خدا کا فضل ہے کہ ہمارے جوانوں نے ان ہدایات کا ہمیشہ خیال رکھا۔اسی لئے وہ اخیر تک نہایت کامیابی سے لٹریچر کی تقسیم کرتے رہے۔