تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 535
تاریخ احمدیت۔جلد 22 535 سال 1964ء آپ کی تشریف آوری کے اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اگر میں مذہب کے متعلق بالعموم اور مسیحیت اور اسلام کے بارہ میں بالخصوص اپنے نظریات کا اظہار آپ کی خدمت میں نہ کروں تو میں سمجھتا ہوں کہ میں نے اپنے فرائض منصبی سے عہدہ برآ ہونے میں کوتاہی کی ہے۔ہماری اس کوشش کے پس پردہ صرف یہ مقصد کار فرما ہے کہ باہمی تفہیم کے ذریعہ عقائد و نظریات کے ان اختلافات کو دور کیا جائے جو آجکل ہمارے اور مسیحی دوستوں کے درمیان پائے جاتے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ ہم جن پر خلوص جذبات سے یہ چیز پیش کر رہے ہیں۔اسی خلوص نیت سے آپ بھی اس پر غور فرمائیں گے۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ ہمارے اس نظریہ سے مکمل اتفاق کریں گے کہ تمام مذاہب کا نقطہ مرکز یہ اور حقیقی مقصود ومحور اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔اور کسی مذہب کا ماننے والا بھی مذہب کے اس بنیادی نظریہ سے اختلاف نہیں کر سکتا۔اگر مذہب میں انسانی فلاح مضمر ہے تو اس فلاح کا منبع و مصدر خدا تعالیٰ کی ذات ہونی چاہیئے جو ایک زندہ حقیقت ہے۔پھر اگر کوئی مذہب بنی نوع انسان کو ترقیات عطا نہیں کرتا اور اس کے لئے کسی ابدی فلاح کو پیش نہیں کرتا تو اس کا بنی نوع انسان کی راہنمائی کا دعویٰ عبث ہے کیونکہ وہ اپنے اولین مقصد میں ہی کامیاب نہیں سمجھا جا سکتا۔اگر خدا ایک زندہ خدا ہے تو اس کو اپنا منارہ نور ( LIGHT HOUSE) ان طالبانِ حق کے لئے ہمیشہ منور اور روشن رکھنا چاہیئے جو اس کی روشنی میں راہ حق کے متلاشی ہیں۔یہ الفاظ دیگر ہمارا ایمان تب ہی کامل ہو سکتا ہے جبکہ اس کی زندگی کے ثبوت میں تازہ بتازہ نشان مشاہدہ میں آئیں۔اس کو اپنے ان منتخب بندوں سے وقتاً فوقتاً کلام کرنا چاہیئے جو اُس کی راہ میں کوشاں ہیں۔اور اس کے نام کو بلند کر رہے ہیں۔اگر وہ مکالمہ اور مخاطبہ سے اپنی موجودگی کا ثبوت نہیں دیتا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ بنی نوع انسان بجائے ہدایت کے راستہ پر گامزن ہونے کے تاریکی میں بھٹکتے رہیں گے۔اگر ہم ایک ایسی عمارت یا مینار کو دیکھیں جس میں کوئی دروازہ یا کھڑ کی نہ ہوتو لا محالہ ہم یہ سمجھنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ اس میں کوئی زندہ انسان نہیں بستا۔اور پھر جب بارہا آواز میں اور دستک دیتے ہوئے ہم کسی متنفس کو مخاطب کرتے ہیں اور ہماری یہ کوشش سعی لاحاصل ثابت ہوتی ہے تو ہمیں اس امر کا یقین ہو جاتا ہے کہ اس مینار میں کوئی موجود نہیں یا اب بقید حیات نہیں۔اور یہ جگہ ویران ہے۔خدا تعالیٰ صدیوں تک خاموش نہیں رہ سکتا۔اور یہ بھی ممکنات میں سے نہیں کہ وہ ماضی میں تو موجود تھا