تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 533 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 533

تاریخ احمدیت۔جلد 22 533 سال 1964ء بمبئی میں بین الاقوامی کیتھولک کانفرنس اور جماعت احمدیہ کی شاندار تبلیغی مساعی بھارت کے شہر بمبئی میں ۲۸ نومبر سے ۶ دسمبر ۱۹۶۴ء تک کیتھولک عیسائیوں کی ۳۸ ویں یڈ کریسٹک کانفرنس منعقد ہوئی جس کے انتظامات میں متعدد یورپین حکومتوں نے بھر پور حصہ لیا۔اس بین الاقوامی کانفرنس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ عیسائیت کی سینکڑوں سال کی تاریخ میں یہ پہلا موقعہ تھا کہ پوپ (پال ششم) بنفس نفیس اس نوع کی کانفرنس میں شریک ہوئے اور مختلف مواقع پر پبلک سے خطاب کیا۔علاوہ ازیں بیرونی ممالک سے متعدد کارڈینل، ہزار ہامند و بین اور ہندوستان کے طول و عرض سے بھی کثیر تعداد میں عیسائیوں نے شمولیت کی۔حاضرین کی تعداد ڈیڑھ دولاکھ ہو گی۔یہ پُرشکوہ کا نفرنس بمبئی کی مشہور OVAL GROUND میں ہوئی جس میں ایک لاکھ سے زیادہ آدمیوں کی گنجائش تھی۔گراؤنڈ کے وسط میں ساٹھ فٹ لمبا پنڈال بنایا گیا جسے دیکھ کر شاہی درباروں کی شان و شوکت یاد آتی تھی۔اوپر تین ستون نصب تھے۔ستونوں کے درمیان حضرت مسیح کی صلیبی حالت کی قد آدم تصویر آویزاں تھی۔دائیں طرف ٹیلی ویژن کے لئے ایک بڑا کمرہ بنایا گیا تھا۔اگلے حصہ میں ایک ہزار کینڈل پاور کے چالیس ہیڈ لائٹ روشن رہتے تھے۔پنڈال سے ۱۸ میل دور سانتا کروز ہوائی اڈہ پر ہوائی جہاز ٹیلی ویژن کے آلات سے لیس کھڑے تھے۔کیمرہ کی مدد سے کا نفرنس کی تمام ضروری کارروائیوں کا فوٹو ہوائی جہازوں کی طرف منتقل کیا جاتا تھا اور پھر ویٹیکن سٹی اٹلی اور یورپ کے دوسرے ممالک میں ٹیلی کاسٹ کیا جاتا تھا۔اس مرکزی پنڈال کے بائیں جانب اتنا ہی رفیع وعریض ایک اور پنڈال بنایا گیا جو غیر ملکی بشپ ، آرچ بشپ اور کارڈینل کے لئے مخصوص تھا۔پوری گراؤنڈ میں حکومت ہالینڈ نے روشنی کا ایک دلکش انتظام کیا تھا جو جدید ٹیکنالوجی کا بہترین نمونہ اور اپنی نظیر آپ تھا۔پوپ ہندوستان کی فضائی کمپنی ائیر انڈیا کے بوئنگ سے سانتا کروز کے ہوائی اڈہ پر ۲ دسمبر کو پہنچے۔حکومت ہند ، حکومت مہاراشٹر اور بمبئی کے پادریوں نے ان کا پُر جوش اور فقید المثال استقبال کیا۔پوپ نے ویٹیکن سٹی میں پرواز سے چند گھنٹے قبل یہ افسوسناک بیان دیا کہ ہندوستان کے باشندے گمراہ اور فریب خوردہ ہیں مگر ہمیں اُن کے ساتھ رواداری سے پیش آنا چاہیئے۔اس تحقیر آمیز بیان کی وجہ سے کسی مذہبی جماعت نے ان کی ملاقات کے لئے کوئی جوش و خروش نہیں دکھلایا بلکہ منتظمین کانفرنس نے ملک کی مذہبی جماعتوں کو اپنے مذہبی راہنما سے ملاقات کا وقت ہی نہیں دیا۔