تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 517 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 517

تاریخ احمدیت۔جلد 22 517 سال 1964ء سالانہ اجتماع خدام الاحمدیہ اس سال پاکستان کی دوسو سے زیادہ مجالس کے ۲۸۱۷ دو ہزار آٹھ سوسترہ خدام نے شرکت کی۔آخری اجلاس میں تقریباً ایک ہزار زائرین اور اسی قدر اطفال بھی شامل ہوئے۔اجتماع کی دلچسپی اور افادیت کا ایک خاص پہلو یہ تھا کہ مقام اجتماع میں چارٹوں کی نمائش کا انتظام کیا گیا تھا جس میں گرافوں پر اعداد و شمار ظاہر کر کے مجلس کے کام کی رفتار واضح کی گئی تھی۔نمائش کے دوسرے حصے میں سرکہ سکوائش اور لکڑی کی چھوٹی چھوٹی اشیاء بطور نمونہ رکھی گئی تھیں جو خدام نے اپنے ہاتھ سے تیار کی تھیں۔اختتامی اجلاس میں اعلان کیا گیا کہ ضلع وار قیادتوں میں حسن کارکردگی کے اعتبار سے امسال ضلع لائلپور اور لاہور کی قیادتیں اول اور ضلع سرگودھا کی قیادت دوم آئی ہیں۔اس موقع پر (حضرت ) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے ان کے قائدین اور نمائندگان کو سندات تقسیم فرمائیں۔اطفال الاحمدیہ کی مجالس میں سے سیالکوٹ کی مجلس کو اول قرار دیا گیا۔اس مجلس کے قائد اور ناظم اطفال کو صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب نے علم انعامی عطا فرمایا۔تلقین عمل کے پروگرام میں (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی پُر اثر تقریرتھی۔آپ نے ایک حدیث نبوی بیان فرما کر واضح کیا کہ خدا کے ہاں صرف بے غرض اور اعلیٰ نمونہ ہی قابل قبول ہے اور جو لوگ بے جا فخر و مباہات ( شیخی)، غیبت کبر و عجب ، مخلوق خدا میں تفرقہ ، ریا اور غیر اللہ کے خیالات کو عظمت دینے کے طریق اختیار کرتے ہیں ان کے اعمال قیامت کے روز ان کے منہ پر مارے جائیں گے۔کامیابی کا طریق صرف یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل پیروی کی جائے اور لوگوں کے باہمی تعلقات محبت واخوت کو مضبوط سے مضبوط تر کیا جائے۔اجتماع میں علمی اور مذہبی سوالات کے جوابات کا از حد مفید پروگرام نہایت درجہ دلچسپ تھا۔سوالات کے جوابات مرزار فیع احمد صاحب،(حضرت) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب، محترم سید داؤ د احمد صاحب، محترم سید میر محمود احمد صاحب اور مولا نا دوست محمد صاحب شاہد نے دیئے۔قواعد کے مطابق آئندہ دو سال کے لئے صدر مجلس کا انتخاب بھی ہوا۔حضرت مصلح موعود کی زیر ہدایت ( حضرت ) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اجتماع کے دوسرے روز پنڈال میں تشریف لائے اور نئے صدر کا انتخاب آپ کی نگرانی میں ہوا۔سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے تین نام حضور کی خدمت میں بغرض منظوری بھجوائے گئے۔اگلے روز حضرت صاحبزادہ صاحب