تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 515 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 515

تاریخ احمدیت۔جلد 22 515 سال 1964ء جناب اشتیاق حسین صاحب قریشی وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی کراچی کا بلیغ پیغام درج ذیل الفاظ میں تھا۔مکرمی، زاد عنایتکم اردو کا نفرنس میں شرکت کی دعوت کا شکریہ۔میں مشاغل کی کثرت کے باعث شرکت سے معذور ہوں۔امید ہے کہ آپ معاف فرمائیں گے۔میرے لئے یہ امر باعث اطمینان ہے کہ مغربی پاکستان میں اپنی قومی زبان کی طرف سے بیداری بڑھتی جاتی ہے۔آپ کی کانفرنس بھی اسی بیداری کی ایک علامت ہے۔یہ ظاہر ہے کہ اگر ہم نے جلد از جلد اپنی زبان کو اولیت نہ دی اور اسے تعلیم تحریر اور تقریر کاذریعہ نہ بنایا تو نہ ہم کسی قسم کی علمی یا ثقافتی ترقی کر سکتے ہیں اور نہ دنیا کی سرفراز اقوام میں شمار ہو سکتے ہیں۔ترقی تو در کنار ہمارا احساس کمتری اور گہرا ہوتا جائے گا اور ہم نہ اپنی ثقافت کو بچاسکیں گے نہ اپنی دینی روایات کو برقرار رکھ سکیں گے۔میری دلی تمنا ہے کہ آپ کی کانفرنس کامیاب ہو اور اردو کی مشعل کو کسی قدر اور بلند کر سکے۔مخلص اشتیاق حسین قریشی 103 پروفیسر ناصر احمد پروازی اردو کا نفرنس کی مجلس استقبالیہ کے معتمد تھے۔انہوں نے اپنے جملہ فرائض نہایت درجہ سرفروشی اور سرگرمی سے ادا کئے۔اور (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل تعلیم الاسلام کالج کی رہنمائی کے مطابق کانفرنس کو کامیاب بنانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔اور پھر کا نفرنس میں پڑھے گئے مقالات یکم نومبر ۱۹۶۴ء کو ذکر اردو کے نام سے شائع کر کے اس علمی خزانہ کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا۔ذیلی تنظیموں کے سالانہ مرکزی اجتماعات جماعت احمدیہ کی مرکزی ذیلی تنظیمیں حسب سابق اس سال بھی اپنی دینی تربیتی علمی اور روحانی سرگرمیوں میں سرگرم رہیں۔اور ان کے سالانہ مرکزی اجتماعات ۱۹۶۴ء میں بھی سال کی آخری سہ ماہی میں منعقد ہوئے۔سالانہ اجتماع اطفال الاحمدیہ افتتاحی اجلاس میں مولوی محمد اسمعیل صاحب منیر مہتم اطفال الاحمدیہ مرکزیہ نے سالانہ رپورٹ