تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 511 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 511

تاریخ احمدیت۔جلد 22 511 سال 1964ء سوچ سمجھ کر انہوں نے اسلام قبول کیا ہے اور وہ اس پر عمل پیرا بھی ہیں اور پھر اشاعت اسلام کا جذبہ بھی ان میں بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔یہ صورتحال اس امر کی آئینہ دار ہے کہ یورپ میں بھی اسلام غالب 99 آکر رہے گا۔صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کا دورہ آزاد کشمیر آپ نے ۱۹۶۴ء میں نائب صدر خدام الاحمدیہ کی حیثیت سے میر پور، کوٹلی ، آرام باڑی، بھا بھڑہ اور گوئی کی مجالس کا تربیتی دورہ کیا۔میر پور میں قاضی محمد برکت اللہ حال امریکہ جو کالج کے پرنسپل ہونے کے علاوہ قائد خدام الاحمدیہ بھی تھے نے بعض معززین شہر کو بھی دعوت دی جنہیں (حضرت) صاحبزادہ صاحب موصوف نے خطاب کیا۔آرام باڑی میں آپ نے مسجد احمد یہ آرام باڑی کا سنگ بنیا درکھا۔مولوی امام الدین صاحب صدر جماعت احمد یہ بھا بھڑہ کا بیان ہے کہ میں نے انہی دنوں میں رویا میں دیکھا کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی اس جگہ آکر تقریر کر رہے ہیں جس جگہ مسجد احمد یہ آرام باڑی کا سنگِ بنیا د رکھا گیا۔یہ خواب آپ کے فرزند صاحبزادہ صاحب موصوف کے مسجد احمدیہ کا سنگ بنیا درکھنے اور تقریر کرنے سے پوری ہو گئی ہے۔یہاں سے آپ نے بھا بھڑا جا کر وقف جدید کے تحت چلنے والے مدرسہ کا معائنہ کیا اور پھر پیدل پہاڑی راستہ سے گوئی پہنچے اور وہاں کی مجالس خدام الاحمدیہ اور احباب جماعت کو تربیتی ہدایات سے نوازا۔جہاں سے آپ واپس چلے آئے۔یہ دوره مجالس اور احباب کے لئے ازدیاد ایمان کا باعث بنا۔100 ربوہ میں پہلی اردو کا نفرنس ربوہ اپنی ملک گیر علمی سرگرمیوں کے باعث نہایت تیزی سے مدینۃ العلم کی حیثیت اختیار کرتا جار ہا تھا۔اس تعلق میں ۱۸ اکتو بر۱۹۶۴ء کا دن ہمیشہ یادگار رہے گا جبکہ تعلیم الاسلام کالج کے زیر انتظام پہلی کل پاکستان اردو کا نفرنس منعقد ہوئی۔اس تاریخی کا نفرنس میں ملک کے قریباً پچیس نامورادباء و شعراء نے شرکت کی۔اور چیدہ اہل قلم شخصیات نے مختلف موضوعات پر فاضلانہ مقالے پڑھے۔علاوہ ازیں ملک کے مختلف کالجوں کی طرف سے پچیس کے قریب مندوبین بھی شریک ہوئے۔یہ کانفرنس ہر اعتبار سے کامیاب رہی۔