تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 510
تاریخ احمدیت۔جلد 22 510 سال 1964ء جس میں سکول کے طلباء ،ممبران اسٹاف اور ڈیڑھ درجن کے قریب مبلغین کے علاوہ ضلع جھنگ کے ان سب ہیڈ ماسٹر صاحبان نے بھی شرکت فرمائی جو ہیڈ ماسٹرز ایسوسی ایشن ڈسٹرکٹ جھنگ کے اجلاس میں شمولت کی غرض سے ربوہ تشریف لائے ہوئے تھے۔یہ اجلاس صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل اعلیٰ و وکیل التبشیر کی صدارت میں ہوا۔سٹوڈنٹس یونین کے صدر سید انور احمد صاحب باہری نے مولانا نور محمد صاحب نسیم سیفی سابق انچارج مربی دعوت الی اللہ مغربی افریقہ اور ان کی وساطت سے افریقہ ، شرق اوسط، جنوب مشرقی ایشیا، یورپ اور امریکہ کے مربیان احمدیت کی خدمت میں استقبالیہ ایڈریس پیش کیا اور ان کی عظیم الشان خدمات پر مبارکباد پیش کی۔مولانا سیفی صاحب نے جوابی تقریر سے قبل جملہ مبلغین کا تعارف کروایا۔بعد ازاں آپ نے اور مولانا محمد منور صاحب نے افریقہ میں رونما ہونے والے انقلاب پر روشنی ڈالی۔تقاریر کے بعد سوالات کا موقعہ دیا گیا جن کے تفصیلی جواب مبلغین نے دیئے۔صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب نے اپنی مختصر مگر نہایت مؤثر صدارتی تقریر میں بتایا کہ:۔افریقہ کی طرح یورپ میں بھی اسلام کی ترقی کے امکانات کچھ کم روشن نہیں ہیں۔یہ تاثر کہ یورپ میں اسلام نہیں پھیل سکتا جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی کے نتیجے میں غلط ثابت ہو چکا ہے۔تبلیغ کی ابتدا مذہب تبدیل کرنے والوں کی کثرت تعداد سے نہیں بلکہ تبدیلی خیالات سے ہوتی ہے۔چنانچہ وہاں لوگوں کے خیالات بدلنے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں نمایاں کامیابی عطا فرمائی ہے۔صلیبی جنگوں کے بعد سے یورپ میں اسلام کے خلاف اس قدرزہریلا پراپیگنڈہ کیا جاتا رہا تھا کہ وہاں کوئی اسلام کا نام سنے کا روادار نہ تھا۔لیکن اب جبکہ وہاں متعدد ممالک میں جماعت احمدیہ کے تبلیغی مشنوں کے ذریعہ اسلام کے متعلق پادریوں کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا بڑی حد تک ازالہ ہو چکا ہے وہ پہلی سی بھیا نک صورتحال اب وہاں دیکھنے میں نہیں آتی۔اس کا بین ثبوت وہاں کے مستشرقین کی وہ کتابیں ہیں جو فی زمانہ اسلام پر لکھی جارہی ہیں۔آج سے ۵۰ سال پہلے کی کتابوں اور ان کتابوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔اگر دونوں کا مقابلہ کر کے دیکھا جائے تو فرق خود بخو دواضح ہو جاتا ہے۔اب ان کا رویہ بہت ہمدردانہ اور مخلصانہ ہے یہی وجہ ہے کہ وہاں بھی اسلام میں عوام کی دلچسپی دن بدن بڑھ رہی ہے اور وہ ذہنی طور پر اسلام کے قریب آرہے ہیں۔چنانچہ بہتوں نے صداقت کا قائل ہو کر اسلام قبول کرنا شروع کر دیا ہے۔پھر جو یورپی باشندے مسلمان ہوئے ہیں وہ محض نام کے مسلمان نہیں ہیں بلکہ