تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 37 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 37

تاریخ احمدیت۔جلد 22 37 سال 1963ء انجمن رفاہ عامہ واتحاد بین المسلمین سیالکوٹ ☆ مبارک علی چیمہ ناظم اعلی انجمن رفاہ عامہ واتحاد بین السلمین سیالکوٹ نے کہا کہ :۔کوئی مسلمان بھی خواہ وہ کسی فرقہ سے تعلق رکھتا ہو۔ایسی کتاب کی ضبطی کو کیسے برداشت کر سکتا۔جو خالصہ اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات اور افضلیت ظاہر کرنے کے لئے لکھی گئی ہو اور جس میں عیسائیت کا خودان کے مسلمات اور عقائد سے بطلان ثابت کیا ہو۔جنرل سیکرٹری مرکز تحقیق مسیحیت لاہور 66 ی محمد اسلم را نا جنرل سیکرٹری مرکز تحقیق مسیحیت اچھرہ لا ہور نے کہا کہ :۔’اخباری خبر کے مطابق حکومت مغربی پاکستان نے رسالہ ” سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب اس لئے ضبط کر لیا ہے کہ اس سے مسیحیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔یہ پمفلٹ پہلی بار ۱۸۹۷ء میں شائع ہوا۔مسیحی مشنری ان دنوں اسلام پر بھر پور حملے کر رہے تھے۔اور وطن عزیز پر مسیحیوں کا قبضہ تھا اس کے مندرجات کے خلاف عیسائی مبلغوں نے کچھ نہ کہا۔اور مسیحیت نواز حکومت وقت نے بھی اشاعت پر پابندی عائد نہ کی۔دو ایڈیشن قیام پاکستان کے بعد شائع ہوئے۔فی زمانہ جب کہ امریکی اور یورپی مسیحی مشنری دیار مغرب کے عوام اور حکومتوں کی اخلاقی و مالی اعانتوں کی مدد سے گوناگوں حیلوں بہانوں کے ذریعہ اہل اسلام کے ایمان پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں اور بے سروسامان مسلم مبلغین یہ دل گیر از منظر حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں کہ قابل قدر کتا بچہ کی ضبطی کا حکم حیرت انگیز ہے۔راقم الحروف نے ارباب اختیار پر زور دیا ہے کہ ایسی کتابوں کو ضبط کرنا اچھا نہیں۔علمی اور تحقیقی نقطۂ نظر سے اظہار خیال کی آزادی چاہیئے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فریق مخالف کی دل آزاری کی جائے۔صرف عقلی علمی اور حق پرستی کے معیار سے گری ہوئی اور متعصبانہ تحریروں کی اشاعت ممنوع ہونی چاہیئے۔رواداری اور اقلیت پرستی کے یہ معنے نہیں کہ ان کے سوالات اور اعتراضات کا جواب بھی نہ دیا جائے۔رائٹرز گلڈ سیالکوٹ 61 جناب اصغر سودائی صاحب ایم اے سیکرٹری رائٹرز گلڈ سیالکوٹ نے کہا کہ:۔