تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 36
تاریخ احمدیت۔جلد 22 36 سال 1963ء کہ اس حکم کو واپس لے کر پاکستان کو عیسائیت نوازی کے خطرناک الزام سے بچائیں۔خاکساران دستخط : (۱) ضیاء الحق ۳۸ جنوبی (۲) عبدالعزیز بشمس (۳) عبدالرحمان خان ممبر یونین کونسل نمبر ۲ چک نمبر ۳۸ جنوبی (۴) نصیر احمد خاں ۳۸ جنوبی (۵) محمد صدیق خاں (۶) عبدالرحمن خاں (۷) عبدالعزیز ٹیلر ماسٹر (۸) رلے خاں (۹) غلام حسین ۳۸ جنوبی ضلع سرگودها ۲۴ مارچ ۱۹۶۳ء (۱۰) بشیر حسین حوالدار پنشنر انجمن اسلامیہ سیالکوٹ ☆ 57 58 766 خواجہ حاکم دین صاحب پریذیڈنٹ انجمن اسلامی سیالکوٹ نے کہا کہ:۔«کتاب نامی "سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب“ کی ضبطی کا حکم پڑھ کر حیرانی ہوئی۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی غلط فہمی کی بناء پر ایسا کیا گیا ہے۔کیونکہ عیسائی حکمرانوں نے اپنے عہد حکومت میں اس کتاب کو ضبط نہیں کیا اور نہ ہی ساٹھ ستر سال میں اس کتاب کی وجہ سے دونوں فرقوں میں کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ان حالات کی موجودگی میں ہم اپنی گورنمنٹ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ مہربانی فرما کر اپنے حکم پر نظر ثانی فرما ئیں۔ملک عبدالکریم صاحب نائب صدرانجمن اسلامیہ سیالکوٹ نے کہا کہ:۔۲۶۔۱۹۲۵ء میں جب میں طالب علم تھا ریاست جموں میں عیسائیت کی تبلیغ بہت زور شور سے جاری تھی اور ہم لوگ عیسائیوں کے اعتراضات کے جواب میں لٹریچر کی جستجو میں رہتے تھے۔اس سلسلہ میں سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب“ نامی رسالہ دیکھنے کا موقعہ ملا اور مطالعہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔اسے پڑھ کر اسلام پر اعتقاد مضبوط ہوا۔دلی اطمینان صداقت اسلام پر حاصل ہوا اور عیسائیت کے اعتراضات کا بود این ثابت ہو گیا۔اب مجھے یہ معلوم کر کے حیرت ہوئی اور افسوس بھی کہ حکومت پاکستان نے اسلام کی تائید میں شائع شدہ اس کتاب کو ضبط کر لیا ہے۔حالانکہ آج کل عیسائی منادا سلام کے متعلق جو شبہات پیدا کر رہے ہیں۔ان کے ازالہ کے لئے ضروری تھا کہ اس کی اشاعت بکثرت کی جاتی۔حکومت کے لئے لازم ہے کہ اس حکم کو فورا واپس لے کر اپنی حقیقت پسندی کا ثبوت دے“۔59