تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 34
تاریخ احمدیت۔جلد 22 ادارہ تحفظ حقوق شیعان پاکستان 34 سال 1963ء و جناب اقبال حسین صاحب کرمانی رکن دور کنگ کمیٹی ادارہ تحفظ حقوق شیعان پاکستان نے اپنے احتجاجی تار میں حکومت کی خدمت میں لکھا کہ :۔حکومت کا وہ اقدام جس کے تحت کتاب ” سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ضبط کر لی گئی ہے۔نہایت قابل اعتراض ہے۔ایک کتاب جو ۶۵ سال قبل شائع کی گئی تھی اور جس کے برطانوی دور حکومت میں کئی زبانوں میں متعدد ایڈیشن بھی شائع ہوئے ایک اسلامی جمہوریہ میں اس کی ضبطی قابل افسوس ہے درخواست ہے کہ اس حکم کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔“ ☆ امجد حسین شیرازی جنرل سیکرٹری ادارہ تحفظ حقوق شیعہ۔فارورڈ بلاک اثنا عشریہ 54 حمد اصغر حسین آزاد سو جانپوری سیکرٹری فارورڈ بلاک صادقیہ اثناعشریہ سیالکوٹ نے کہا کہ:۔گزشتہ کئی دنوں سے مختلف اداروں کے سربراہوں، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے معزز اراکین، وکلا صاحبان اور دیگر انصاف پسند حضرات کی طرف سے حکومت کی خدمت میں روزانہ کتاب "سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب کی ضبطی کے خلاف اپیلیں شائع ہو رہی ہیں۔میں حکومت کے ارباب اختیار سے گزارش کرتا ہوں کہ ایسی کتاب کو جو گزشتہ ۶۵ سال سے لوگوں میں برائے تبلیغ تقسیم ہوتی چلی آ رہی ہے۔اور اتنے طویل عرصہ میں کبھی اس کتاب پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوئی بلکہ پاکستان کے پندرہ سالہ مختلف ادوار میں اسے کبھی ضبط نہ کیا گیا۔اب اچانک مطبوعہ کتاب کو ضبط کر لینا چه معنی دارد؟ امریکہ کے رسالہ ”لائف میں اشتعال انگیز مضمون اور حضرت علی علیہ السلام کی فوٹو جو کہ تضحیک اسلام ہے، کی اشاعت پر حکومت کی رگ حمیت قطعا نہ پھڑ کی۔حالانکہ اس گستاخ اور فتنہ بردار رسالہ کا داخلہ اندرون ملک فوراً بند کیا جانا مقصود تھا۔لیکن ردّ عیسائیت کے ایک پرانے مطبوعہ کتا بچے کو ضبط کر لینا قابل صد افسوس ہے۔لہذا حکومت عالیہ کو چاہئے کہ اس ضبط شدہ کتابچے کی ضبطی کے احکام کو فی الفور واپس لے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔